ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نواز شریف کی طرح ہمارے تعلقات عمران خان سے بھی اچھے مگر۔۔۔!!! سی پیک منصوبہ سست روی کا شکار کیوں ہوا؟چین نے بالآخروجہ بتا دی

datetime 22  ستمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ(آن لائن) کراچی میں متعین چین کے قونصل جنرل وانگ یو نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)منصوبہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے باعث نہیں بلکہ بیورکریسی کی جانب سے کام میں روڑے اٹکانے کے باعث سست روی کا شکار ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں چینی سفارت خانے میں بلوچستان سے چین کے دورہ پر جانے والے ذرائع ابلاغ کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔وانگ یو نے کہا کہ پاکستان میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں سی پیک کے منصوبوں پر جس تیزی سے کام جاری تھا آج وزیر اعظم عمران خان کے حکومت میں یہ کام سست روی کا شکار ہے مگر یہ کہنا غلط ہوگا کیونکہ ہمارے تعلقات وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی بہت اچھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گوادر ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام رواں سال مکمل ہو جا ئے گا جبکہ حب کو پاور منصوبہ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ روڈ اور انڈسٹیریل زون بھی بنائے جارہے ہیں جس سے پاکستان میں لوگوں کو وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔وانگ یو نے کہا کہ سی پیک کے بعض منصوبوں پر عملد درآمد نہ ہونے کی بڑی وجہ بیورکریسی کی جانب سے مسلسل فائلوں کو روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں وفود کے تبادلے سے سوشل ، کلچرل اور اکنامکل معلومات کا تبادلہ ممکن ہے ہم پاکستان سے صحافیوں ، ڈاکٹروں اور طالب علموں چین لے جا رہے ہیں تاکہ وہ چائینہ کی ترقی کو دیکھ کر اپنے ملک میں بھی اسی طرح ترقی کے سفر کو جاری رکھیں۔

ایک سوال کے جواب میں چینی قونصل جنرل نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے سی پیک میں سرمایہ کاری کے اقدام کو ہم سراتے ہیں سی پیک کے منصوبہ میں دوسرے سرمایہ کاروں کی شمولیت کا اختیار بھی پاکستان کے ساتھ ہے ۔اس موقع پر بلوچستان اکنامکس فورم کے صدر سردار شوکت پوپلزئی بھی موجود تھے انہوں نے صحافیوں کو دورہ چین کا موقع فراہم کرنے پر چینی قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا ۔میڈیا کے وفد کی سربراہی سینئر صحافی اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین نے کی جبکہ اس موقع پر بلوچستان اکنامکس فورم کے کورآڈینیٹر کامران بلوچ ،سنیئر صحافی محمد آصف بلوچ،انور ناصر، نصیر احمد،جاوید انصاری ،مرتضی زہری ، مجیب اچکزئی، عاصم خان ، بلال اعوان ، فضل تواب، عمران منگی ، شہاب عمران، عابد،عبیدالرحمان ودیگر بھی موجود تھے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…