بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

 حکومت کاتمام درباروں پر جدید الیکٹرانک کمپیوٹرائزڈ نذرانہ بکس لگانے کافیصلہ

datetime 14  جولائی  2019 |

لاہور(این این آئی)سیاسی معاون برائے وزیر اعلیٰ پنجاب سید رفاقت علی گیلانی نے داتا دربار و بادشاہی مسجد کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے لوگوں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے و یژ ن کے مطابق محکمہ اوقاف و مذہبی امور میں  اصلاحتی عمل کو تیزی سے پایہ تکمیل کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں حکومت پنجاب چائنہ کی ہواوے کمپنی کے شتراک سے صوبہ بھر کے تمام درباروں پر جدید الیکٹرانک کمپیوٹرائزڈ نذرانہ بکسوں کا اجراء کرے گی۔

تمام نذرانہ بکسوں کا کنٹرول جدید کیمروں اور وائی فائی کے عمل سے ہو گا۔تمام نذرانہ بکسوں کی نگرانی و مانیٹرنگ کا عمل باقاعدگی سے ماسٹر کنٹرول روم سے کیا جائے گا۔مقررہ تاریخ پر جب تمام نذرانہ بکسوں کو کھولا جائے گا۔ اس مو قع پر نامزد کردہ کمیٹی کے ممبران اور بنک کے افسران بھی موقع پر موجود ہونگے جو اپنی نگرانی میں رقوم کی گنتی کا عمل شروع کرینگے۔ یہ عمل کرپٹ مافیا کے خلاف سخت اقدامات اپنانے کے لئے کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کرپٹ اور دھوکہ باز مافیا کے خلا ف موقع پر سخت اقدامات عمل میں لائے جا سکیں۔انہوں نے مذیدبتایاکہ ڈیپارٹمنٹ کی ترقی کے عمل میں آنے والے ہر قسم کے عناصر کی سر کوبی کے لئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔محکمہ اوقاف کے تمام شعبہ جات کے افسران کوتمام ٹار گٹ کے حصول کے لئے ٹائم فریم فراہم کر دیا گیاہے۔انہوں نے بتا یاکہ دنیا بھر سے زائرین حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری و دیگرمزارات پر لنگر کی تقسیم کے لئے آن لائن رقوم کی ترسیل کا عمل شروع کیا جا رہا ہے،جبکہ ملکی و غیر ملکی زائرین کے لئے  ” سہولت ڈیسک” داتا دربار اور بادشاہی مسجد کے سامنے واقع عالمگیری پارک میں قائم کر دئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف کے تما م ملازمین کی با قاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اوقاف کے تمام ملازمین کی حاضری کے لئے بائیو میٹرک سسٹم کو لاگو کرنالازم و ملزوم کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…