بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

عوام کو بڑا جھٹکا،حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے رواں مالی سال سے نئی ٹیکس سلیب متعارف کرادی،تفصیلات جاری

datetime 7  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو بھی زندہ درگور کرنے کیلئے رواں مالی سال کیلئے نئی ٹیکس سلیب متعارف کرادی۔بینکوں کیلئے آمدنی کا فارمولا لاگو کرتے ہوئے نئی سلیبز کا اطلاق باقاعدہ کردیا گیا ہے۔نئی ٹیکس سلیب کے تحت ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والوں پر 2500روپے ماہانہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے،6 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 6 لاکھ سے زائد اور 12 لاکھ تک سالانہ آمدن والے افراد پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

18 لاکھ  سالانہ آمدن  پر 30 ہزار فکس ٹیکس کے علا وہ 12 لاکھ  سے اوپر والی رقم  پر 10 فیصد ٹیکس، 18 سے 25 لاکھ روپے آمدن تک 90 ہزار فکس ٹیکس اور18 لاکھ سے اوپر والی رقم پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیاگیاہے۔دستاویز کے مطابق 25 سے 35 لاکھ روپے آمدن  پر 1 لاکھ 95 ہزار فکس اور 25 لاکھ روپے سے اوپر والی رقم پر 17.5 فیصد ٹیکس، 35 سے 50 لاکھ  روپے آمدن  پر 1لاکھ 95 ہزار فکس اور 35 لاکھ روپے سے اوپر والی  رقم  پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ 50 لاکھ سے 80 لاکھ آمدن تک 6 لاکھ 70 ہزار فکس ٹیکس اور 50 لاکھ سے اوپر والی رقم  پر 22.5 فیصد رقم  پر ٹیکس عائد ہوگا۔نئی سلیب کے مطابق 80 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ آمدن پر 12لاکھ 45 ہزار فکس ٹیکس اور 80 لاکھ  سے اوپر والی رقم  پر 22.5 فیصد رقم پر ٹیکس، 1 کروڑ 20 لاکھ روپے سے 3 کروڑ آمدن پر 23 لاکھ 45 ہزار فکس اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے اوپر والی رقم پر 27.5 فیصد آمدن  پر ٹیکس، 3 کروڑ سے 5 کروڑ آمدن پر 72 لاکھ 95 ہزار فکس اور 3 کروڑ روپے سے اوپر والی رقم  پر 30 فیصد ٹیکس، 5 کروڑ سے 7 کروڑ 50 لاکھ  تک آمدن پر 1 کروڑ 32 لاکھ فکس جب کہ 5 کروڑ سے اوپر والی رقم پر 32.5 فیصد، 7 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آمدن  پر 2 کروڑ 14 لاکھ  فکس ٹیکس جب کہ ساڑھے 7 کروڑ روپے سے اوپر والی رقم پر 35 فیصد لاگو ہوگا۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں آرمی چیف، صدر پاکستان، وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر تمام مراعات یافتہ طبقے کو انکم ٹیکس سے چھوٹ برقرار ہے اور مراعات یافتہ طبقے کیلئے  ٹیکس سے متعلق دوسرے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…