بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

ترقیاتی کاموں کی آڑ میں سندھ کے 24ارکان اسمبلی 22ارب روپے کھا گئے،اربوں روپے کی رقم بے نامی اکاؤنٹس میں منتقل،شرمناک انکشافات

datetime 7  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی)بے نامی اکاؤنٹس اور جائیداد رکھنے والوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کی تیاریاں شروع کردی گئیں، سندھ کے 24 ارکان اسمبلی 22 ارب کھا گئے۔ شواہد حاصل کر لیے گئے، جلد گرفتاریاں ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق بے نامی اکاؤنٹس میں 3 برس کے دوران جمع کرائے گئے 22 ارب روپے سے متعلق احتساب اداروں کو اہم شواہد مل گئے، سندھ کے 15 مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 24 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی احتساب اداروں کے ریڈار پر آگئے،

ایم این اے اور ایم پی ایز کوٹے کے تحت جعلی ترقیاتی کام کروا کر رقم قومی خزانے سے نکلوائی گئی۔ 15 مختلف اضلاع میں ایک اسکیم پر 4، 4 بار جعلی کام کرائے جانے کے انکشاف پر تحقیقات کا دائرہ ارکان اسمبلی تک وسیع کر دیا گیا، جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کے دوران سندھ میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے صوابدیدی ترقیاتی بجٹ میں میگا کرپشن اور ترقیاتی فنڈز بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرائے جانے کا انکشاف ہوا۔ معتمد ترین ذرائع کے مطابق سندھ سے سامنے آنے والے 65 بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے 22 ارب روپے سے زائد کی غیر قانونی رقوم مختلف بے نامی اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں اور 24 کریڈٹ ڈپازٹرز کی طرف سے 2010 سے 2013 کے دوران رقوم بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئیں۔ ابتدائی طور پر احتساب اداروں کو یہ شواہد مل گئے ہیں کہ یہ رقم ایم این ایز اور ایم پی ایز کوٹے کے تحت جعلی ترقیاتی کام کرا کر قومی خزانے سے نکلوائی گئیں اور انہیں بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرایا گیا۔ اس ضمن میں مٹیاری، عمر کوٹ، تھرپارکر، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، کراچی کے ضلع غربی، جنوبی، سکھر، دادو، ٹھٹھہ سمیت مختلف 15 اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں ایک اسکیم پر 4، 4 بار جعلی ترقیاتی کاموں کی آڑ میں کرپشن کی گئی۔ علاوہ ازیں ایف بی آر نے اومنی گروپ سمیت بے نامی جائیدادیں رکھنے والے بڑے مگرمچھوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے مختلف کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔

اربوں روپے کے اثاثہ جات رکھنے والی 33 کمپنیوں کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا، ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے کے فورا بعد بے نامی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے ایس ای سی پی سے 33 کمپنیوں کی تفصیلات حاصل کرلیں جس میں ان کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور دیگر مالیاتی تفصیلات شامل ہیں۔ ایف بی آر کو ان کمپنیوں کے حوالے سے بے نامی اثاثہ جات کا خدشہ ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ بے نامی قانون کی زد میں جو بھی کمپنی آئے گی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔ واضح رہے کہ آصف زرداری کے خلاف نیب کے مقدمات میں اومنی گروپ شامل ہے، اب ایف بی آر اومنی گروپ کے اومنی ویلفیئر فاؤنڈیشن اور سجاول ایگرو فام کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد اکٹھا کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…