بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

لیاری گینگ وار کاسرغنہ عزیر بلوچ اب کہاں ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 6  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو سندھ پولیس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت کے طرف سے کہا گیاہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے اسے پولیس کے سامنے پیش کریں۔عدالت نے یہ حکم عزیر بلوچ کے گینگ کے ہاتھوں سینٹرل جیل کے حوالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت میں دیاہے۔

عدالت نے اس معاملے میں وزارت دفاع کوتعاون کی ہدایت بھی کردی۔ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے عدالت کو بتایا کہ عزیر بلوچ کی حوالگی کے لیے وزرات دفاع کو خط لکھ دیا ہے،وزارت دفاع نے خط کا جواب ہی نہیں دیا۔اس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں خط و کتابت سے کوئی دلچسپی نہیں، عملی اقدامات کا بتائیں۔پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ متعلقہ حکام سے ملاقات کی انھوں نے بھی بتایا کہ اعلی حکام کو صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ عزیر بلوچ ایک کیس میں مطلوب ہے تو پولیس اس کا بیان بھی نہیں لے سکتی؟پولیس کی طرف سے عدالت کو بتایا گیاکہ گینگ وار کے عزیر بلوچ نے چاروں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ لیاری گینگسٹرعزیر بلوچ کا اعترافی بیان اور جے آئی ٹی پورٹ عدالت میں پیش کی جاچکی ہے۔پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے حوالدار امین عرف لالہ، غازی خان، شیر افضل خان اور شیراز کو اغوا کے بعد قتل کردیا تھا۔عزیر بلوچ نے 2011میں محمد امین سے بدلہ لینے کیلئے ان افراد کواغوا کے بعد قتل کیااورمقتولین کی لاشیں تیزاب میں پھینکی گئیں۔رپورٹ کے مطابق چاروں افراد کو مارنے والے خود قتل ہوچکے ہیں،لیاری گینگ وار کا سرغنہ عزیر بلوچ سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے۔

چاروں افراد کی اغوا میں ملوث لیاری گینگ وار کا شاہد بکک اور ذاکر ڈاڈا جیل میں ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس شاہد بکک اور ذاکر ڈاڈا سے تحقیقات کے بجائے درخواست گزاروں کو کبھی قبرستانوں میں لے جاتی ہے کبھی کہیں اور۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ حوالدار امین عرف لالہ، غازی خان، شیر افضل خان اور شیراز کو سینٹرل جیل سے اغواکرلیا گیا،چاروں افراد کو بازیاب کرایا جائے، اگر قتل ہوچکے ہیں تو لاشیں حوالے کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…