بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

بڑے بڑے سیاستدانوں،تاجروں،آفیسروں،زمینداروں میں بے نامی جائیدایں ضبط ہونے کے خوف سے کھلبلی،کالا پیسہ ”زمین میں دفن“ کرنے کی تیاریاں شروع

datetime 4  جولائی  2019 |

ڈیرہ مراد جمالی (آن لائن) وزیراعظم عمران خان کی بے نامی اسکیم کے اختتام پر نصیرآباد کے بڑے بڑے سیاستدانوں تاجروں آفیسروں زمینداروں تاجروں میں بے نامی جائیدایں ضبط ہونے کے خوف سے کھلبلی مچ گئی اربوں روپے کی زرعی زمینیں کروڑوں کی قیمتی گاڑیاں کسانوں منشیوں نوکروں اور ہندو تاجروں کے نام پر ہونے کا انکشاف

جبکہ کروڑوں روپے بینکوں میں رکھنے کے بجائے بڑی بڑی صندوقیں تیار کرکے زیر زمین دفن کرنے کی تیاریاں اپنے وفاداروں نوکروں منشیوں کسانوں کی خاطر تواضع سیروتفریح کا سلسلہ شروع غریب عوام میں خوشی کی لہر دور گئی تفصیلات کے مطابق نصیرآباد سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے سیاستدانوں بیوروکریٹ بڑے زمینداروں ناجائز منافع خور تاجر باظاہر غریب نظر آتے ہیں لیکن   قیمتی گاڑیوں کروڑوں بنگلوں پیڑول پمپ سی این جیز کروڑوں کی زرعی اراضی باغوں کے مالکان ہونے اور اربوں روپے کے بیرون ملک میں اربوں روپے کے کاروبار کے مالک بھی ہیں لیکن اپنے ناموں پر کوئی جائیدادیں نہیں ہوتی ہیں بلکہ اربوں روپے کی بے نامی زرعی زمینیں کروڑوں کی قیمتی گاڑیاں  اپنے وفاداروں کسانوں منشیوں نوکروں اور ہندو تاجروں کے نام پر ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ کروڑوں روپے ٹیکس سے بچنے کیلئے بینکوں میں رکھنے کے بجائے بڑی بڑی صندوقیں تیار کرکے زیر زمین دفن کرنے کی تیاریاں  شروع کردی ہیں اپنے وفاداروں کوکروں منشیوں سے حلف نامے لینے کیلئے بھاگ دور شروع کردی ہے بے نامی جائیدادیں ظاہر نہ کرنے پر اپنے منشیوں نوکروں کسانوں کی خاطر تواضع کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے شہروں کی سیروتفریح کرانے شروع کردی ہے اس اقدام سے  غریب عوام میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…