بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

حکومت لمبی تان کر سو گئی،تھرپارکر میں موت کا کھیل جاری،48 گھنٹوں میں مزیدچار بچوں نے دم توڑ دیا، تعداد 413 ہوگئی، افسوسناک انکشافات

datetime 4  جولائی  2019 |

تھرپارکر(این این آئی)غذائی قلت و موذی امراض کے سبب معصوم و شیر خوار بچوں کی اموات کا سلسلہ رک نہیں سکا ہے، دو دن میں سول ہسپتال مٹھی میں چار بچے انتقال کرگئے ہیں جس کے بعد ماہ رواں انتقال کرنے والے بچوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اپنی جانوں کی بازی ہارنے والے بچوں کی تعداد 413 تک پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال مٹھی میں گزشتہ دو دن کے دوران جن بچوں کی اموات ہوئی ہیں ان میں اسلام کوٹ کے گاؤں ڈینڑیوں کی رہائشی 14 روزہ حنیفان بنت اللھ بخش، ایک ماھ کا نوید پاڑھو، پانچ سالہ ذوالفقار اللھ جڑیو اور پربھو میگھواڑ کا نومولود بچہ شامل ہیں۔بچوں کی اموات کے حوالے سے ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ غذائی قلت اور جان لیوا موضی امراض کا شدت سے پھیلنا بنیادی وجوہات ہیں۔رپورٹ کے مطابق ضلع تھرپارکرکے سرکاری اسپتالوں میں اس وقت بھی سینکڑوں بچے زیر علاج ہیں تاہم طبی سہولیات کا بے حد فقدان ہے جس کی وجہ سے متاثرہ والدین اور بچوں کے عزیز و اقارب سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ذمہ دار ذرائع کا ا س ضمن میں کہنا ہے کہ بچوں کی اموات کی اطلاعات جب علاقے سے باہر جاتی ہیں اور ذرائع ابلاغ اپنی توجہ اس بنیادی انسانی مسئلے کی جانب مبذول کرتے ہیں تو اعلیٰ حکام اپنی خفگی مٹانے اور ’دنیا‘ کو دکھانے کیلئے ہسپتالوں کے عملے پر برہمی کا اظہار کردیتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ نظرانداز کردیتے ہیں کہ جان لیوا موذی امراض کا علاج سادہ گولیوں سے نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ’خوشنما‘ تقاریر سے غذائی قلت دور ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…