اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کےصوبائی وزیر راجہ بشارت سیاسی حریف حنیف عباسی کی صاحبزادی کے تبادلے کیلئے ایم ایس کو کیوں دھمکیاں دیتے رہے؟ اندر کی کہانی سامنے آگئی، سنسنی خیز انکشافات نے کہانی کو نیا رخ دیدیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حنیف عباسی کی صاحبزادی ڈاکٹر اریبہ عباسی کیساتھ سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائیاں، پی ٹی آئی حکومت کے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے ایم ایس کو سیاسی مخالف کی صاحبزادی کیلئے کیوں دھمکیاں دیتے رہے، اندر کی کہانی منظر عام پر آگئی، دلچسپ انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی پنجاب کی

صوبائی حکومت کے وزیر قانون راجہ بشارت کی بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے ایم ایس کو دھمکیوں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ دونوں کے درمیان ہونیوالی کال سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی تھی اور ذرائع کے مطابق یہ کال ایم ایس ڈاکٹر طارق نیازی کی جانب سے لیک کی گئی۔ حنیف عباسی کی صاحبزادی ڈاکٹر اریبہ عباسی جو کہ ہسپتال میںمیڈیکل آفیسر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی تھیں نے 14دسمبر کو سیکرٹری ہیلتھ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا ڈاکٹر اریبہ عباسی نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ طارق نیازی پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ طارق نیازی کے تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی روابط ہیں ۔ پی ٹی آئی سے تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر طارق نیازی کئی بار اعتراف بھی کرچکے ہیں ۔ ایسی صورت حال میں وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتیں اور عہدے سے استعفا دے رہی ہیں ۔ڈاکٹر اریبہ عباسی نے کہا کہ وہ 13 ستمبر 2017 ءکو بے نظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں بطورمیڈیکل آفیسر تعینات ہوئیں ۔ دو ماہ ایمرجنسی میں کام کرنے کے بعد انہیں پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ میں تعینات کردیا گیا ۔ تین ماہ پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے کے بعد انھیں اسکن ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا ، وہ اسکن ڈپارٹمنٹ میں انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ کام کررہی تھیں کہ اچانک ایم ایس نے انھیں ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں تعینات کردیا ۔ڈاکٹر اریبہ عباسی نے

مزید کہا کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ طارق نیازی انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے وہ کام نہیں کرسکتیں ۔ڈاکٹر اریبہ عباسی کا استعفیٰ سامنے آنے کے بعد تاثر پیدا ہونے لگا تھا کہ ڈاکٹر اریبہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ انہوں نے اپنے استعفیٰ میں بھی تفصیل سے اس کا ذکر کیا ہے۔ جس پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت جو کہ خود بھی راولپنڈی سے

تعلق رکھتے ہیں انہوں نے پارٹی ساکھ کو نقصان پہنچنے سے بچانے کیلئے ایم ایس سے رابطہ کیا تھا۔ تاہم راجہ بشارت کی کال سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید ڈاکٹر اریبہ نے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنی من مرضی کے ڈیپارٹمنٹ میں تبادلے کی کوشش کی ہے جبکہ تحریک انصاف کے ذرائع کا بھی اس حوالے سے کہنا ہے کہ راجہ بشارت کی کال کے پس منظر صرف یہ تھا کہ کسی

کو یہ نہیں لگنا چاہئے کہ سیاسی مخالفین کے اہل و عیال کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنی کال میں وزیر قانون نے ایم ایس سے کہا کہ ڈاکٹر اریبہ عباسی کو اسکن ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیں ، تاہم ایم ایس ڈاکٹر طارق نیازی نے وزیر قانون پنجاب کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا ۔وزیر قانون راجہ بشارت نے پوچھا کہ آپ انھیں اسکن ڈپارٹمنٹ میں کیوں نہیں بھیج سکتے؟

اس پر ڈاکٹر طارق نیازی نے کہا کہ پھر باقی بچیاں بھی کہیں گی کہ ہمیں بھی اسکن ڈپارٹمنٹ بھیج دیں ۔ تو میں باقی بچیوں کو کیوں نہ بھیج دوں؟ آئی ایم سوری میں یہ نہیں کر سکتا ۔اس پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے انھیں دھمکی دی کہ پھر آپ بھی کل اس اسپتال میں نہیں ہوں گے ، ایم ایس بے نظیر بھٹو اسپتال نے کہا کہ بے شک کہیں بھی بھجوا دیں لیکن آپ کی سفارش پر تبادلہ نہیں ہو سکتا ۔ڈاکٹر طارق نیازی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی دھمکی آمیز ٹیلی فون کال کی تصدیق کی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے بشارت راجہ کے بھائی بھی دو مرتبہ اس تبادلے کے لیے فون کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…