منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایچ ای سی کے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کر لی

datetime 11  مئی‬‮  2018 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز داخلہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہائیرایجوکیشن کمیشن کے متعلقہ حکام سے اتوار کو وضاحت طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ عدالت کے دئیے گئے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہورہا اگر کوئی مسئلہ ہے تو عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیاجائے ،مزید احکامات پرعملدرآمد میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ جمعہ کے روز یہاں سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں

پرائیویٹ میڈیکل کالجز داخلہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان رؤف عطاء ایڈووکیٹ سمیت دیگر پیش ہوئے۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں 120سیٹیں دیدی گئی ہے اب ان کی کیا خدمت کی جائے جس پر طلباء کی جانب سے بینچ کو بتایاگیاکہ کئی مہینے گزر جانے کے باوجود بھی عدالت کی جانب سے دئیے گئے احکامات پر عملدرآمد نہیں کیاجارہا جس پر عدالت نے ڈاکٹر وسیم پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیاکہ وہ کیوں احکامات پرعملدرآمد نہیں کرتے جاؤ اور مسئلے ایڈریس کرو، عدالت کے احکامات پرعملدرآمد کو ممکن بنائیں اگر کسی قسم کے مسائل ہیں تو میرے پرائیویٹ سیکرٹری کو اس سلسلے میں آگاہ کرے میں دیکھ لوں گا جبکہ ڈاکٹروسیم نے موقف اختیارکیاکہ ان کا محکمہ پی ایم ڈی سی کی ضمانت مانگتاہے بلکہ ہمیں ابھی تک آرڈر کاپی ہی نہیں ملی اس کا صرف پہلا صفحہ ملاہے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ حکام کو بلائیں یہ کیا مذاق بنا رکھاہے یہ سب کیا ہے ۔آپ اپنے آپ کو درست کریں یہ میں آخری چانس دے رہاہوں 10اپریل 2018ء کے احکامات پرعملدرآمد کیلئے ،طلباء نے موقف اختیارکیاکہ وہ دور دراز علاقوں سے آتے ہیں اور خوار ہوتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے ہائیرایجوکیشن کمیشن کو احکامات دے رکھے ہیں ،ایچ ای سی اتوار کو اس سلسلے میں مجھے وضاحت دیں جبکہ طلباء نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ انہیں احکامات کی سرٹیفائیڈ کاپی دیدیں تاکہ محکمانہ تاخیر سے بچا جاسکے جس کے بعد عدالت نے ایچ ای سی کے متعلقہ حکام کو اتوار کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو ملتوی کردی اورکہاکہ اس سلسلے میں ہم ان سے وضاحت لیں گے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…