منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مناظرے کا چیلنج دے دیا گیا، کیا عمران خان چیلنج قبول کر لیں گے؟

datetime 11  مئی‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پی ٹی آئی کی جانب سے صوبے کی نام نہاد ترقی کے دعوؤں پر کپتان کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے اور کہا ہے کہ عوام کو اب مزید فریبی نعروں سے ورغلایا نہیں جا سکتا، آنے والی نسلون کی بقاء اور پر امن مستقبل کیلئے حکمت کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہونگے، نوے دن میں تبدیلی لانے کا دعوی کرنے والے اقتدار سنبھال کر پانچ سال میں بھی تبدیلی لانے سے قاصر رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پختونخوا کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعہ پر اے این پی کے مرکزی نائب صدر باز محمد خان، صوبائی سنیئر نائب صدر سید عاقل شاہ اور جوائینٹ سیکرٹری نثار خان سمیت کئی راہنما موجود تھے۔ میاں افتخارحسین نے نئی منتخب ہونے والی کابینہ سے حلف بھی لیا۔۔پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء اپنی روایات اورتاریخ کو سامنے رکھ کراپنی اجتماعی ذمہ داریوں کااحساس اورادراک کریں۔ا میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختون ایس ایف پارٹی کا ہراول دستہ ہے اور باچا خان کا فلسفہ ہے کہ نوجوانوں پر محنت کرکے کارآمد شہری بنایاجائے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں طلباء کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی اور آئندہ بھی طلباکے حقوق کیلئے بھرپور آواز اْٹھائیں گے ، انہوں نے پختون ایس ایف کے سابق ایڈوائزر اور گورنر ارباب سکندر خان خلیل شہید اور مرحوم ارباب مجیب الرحمان کی پختون ایس ایف کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے زمانہ طالبعلمی میں جس طرح طلباء کو منظم کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔میاں افتخارحسین نے کہا کہ ملک کی70سالہ تاریخ میں اس صوبے پر صرف 37 ارب روپے کا قرض تھا جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ پانچ سال میں پختونخوا پرقرضوں کا بوجھ 358 ارب روپے تک پہنچادیا اور اس کے باوجود وہ عوام کو کوئی ریلیف فراہم کرنے میں

ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال میں چار مرتبہ ان سے بجٹ لیپس ہوا اور پانچویں بجٹ کو پیش کرنے سے قاصر ہیں، ، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان صاحب نے دعوی کرکے چیلنچ کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے اتنے گذشتہ چالیس سال میں نہ ہوسکے، میاں افتخارحسین نے ان کا چیلنچ قبول کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چالیس برس تو درکنار، اگر عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف کے گذشتہ پانچ سالوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے

تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائیگا۔ میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ عمران خان کے ہیلتھ اور تعلیمی ایمرجنسی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے، چیف جسٹس صاحب کے گذشتہ دو دوروں نے ان کے ہسپتالوں کی حالت زار کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ اور تعلیمی ایمرجنسی کا یہ عالم ہے کہ اس وقت پختونخوا میں 18 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آرٹی ملک کا مہنگا ترین ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔ اپنے خزانے کے خرچ پر پنجاب کے میٹروکو بنانے والوں کا مذاق اڑانے والوں کو اپنے

بی آر ٹی منصوبے کے ڈیزائین کو 30 مرتبہ تبدیل کرنا پڑا۔ سوات موٹروے پر اب تک ایک پل بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے اور عالم یہ ہے کہ وزیراعلی صاحب اس کا افتتاح کرنے کا پرتول رہے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے کرپٹ لوگوں کو نیب سے بچانے کیلئے احتساب کمیشن کا بت کھڑا کردیا اور اسے کام کرنے بھی نہیں دیا گیا۔ محکمہ پولیس کیلئے پنجاب سے افسران کو بلالیا گیا جبکہ مقامی افیسروں کو سائیڈ لائین کردیا گیا۔

میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ 2018 ء کے انتخابات سے قبل فاٹا کو ہرصورت خیبرپختونخوا ضم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد ہماری اگلی کوشش بلوچستان کے پختون بیلٹ کو ضم کرنے کی ہوگی کیونکہ ہم پختونخوا کے سینے پر کھینچی گئی کسی خودساختہ لکیر کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ سے ژوب تک سڑک کی تعمیر سے نہ صرف قبائل باہم جڑ جائینگے بلکہ دیگر پختونخوا سے بھی ان کا ربط قائم ہوگا

اور اس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں گے۔اٹھارویں ترمیم کے حوالے سےانہوں نے کہا کہ صرف چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اے این پی اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالے گی اور اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی، انہوں نے کہا کہ صوبوں کو مزید حقوق دینے کی بجائے ان سے حق چھیننے کی پالیسی ملک کے

مفاد میں نہیں ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتحاد واتفاق کا متقاضی ہے اور تمام مشکلات اور مسائل سے نجات پانے کیلئے اندرونی طور پر ایک دوسرے کی تانگیں کھینچنے کی بجائے اتفاق سے سنجیدہ کوششیں کرنا ہونگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…