جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

دریا خان میں افسوسناک حادثہ ، ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق، تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

دریاخان (آئی این پی)ایم ایم روڑ پر تیز رفتار بس رکشے پر چڑھ گئی ایک ہی خاندان کے چار افراد کچل دیے ایک شدید زخمی مرنے والوں میں میاں بیوی،ساس اور برادر نسبتی شامل ہیں عطاء اللہ رکشے پر بیوی کو زچگی کے لئے حادثہ کا شکار ہونے خاندان کے افراد کے ہمراہہسپتال لے کر آرہا تھا زخمی ڈی ایچ کیو منتقل اہل علاقہ نے ایم ایم روڈ بند کردیا شدید احتجاج گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122اور پولیس موقع پر پہنچ گئی تفصیلات کے مطابق چک نمبر 60/61ایم ایل کا رہائشی عطاء اللہ اپنی بیوی فرزانہ بی بی کو رکشے پر اپنی ساس صغراں بی بی ،بہن فاطمہ اور برادر نسبتی امتیاز کے ہمراہ زچگی کے لئے سرائے مہاجر ہسپتال لے کر آرہا تھا کہ ایم ایم روڑ اڈا کجھی والا کے نزدیک ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتان جانے والی نجی کمپنی کی بس تیز رفتاری کے باعث رکشے پر چڑھ گئی اور کئی گز تک رکشے کو گھسٹتی ہوئی لے گئی جس سے رکشہ سوار کچلے گئے اور عطاء اللہ،اس کی بیوی فرزانہ بی بی،ساس صغراں بی بی ،برادر نسبتی امتیاز موقع پر دم تور گئے جبکہ بہن فاطمہ بی بی شدید زخمی ہو گئی جس کو ریسکیو 1122نے طبی امداد کے بعد ڈی ایچ کیو منتقل کردیا حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اہل علاقہ نے ایم ایم روڑ کو بند کرکے شدید احتجاج کیاا ور روڑبند ہونے سے ٹریفک کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اہل علاقہ کا مطالبہ ہے کہ اس نجی کمپنی کے ڈرائیورز کی تیز رفتاری اور غفلت کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے اور حادثات معمول بن چکے ہیں جبکہ روڑ کے ٹوٹ پھوٹ سے بھی اہل علاقہ کو خونی حادثات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے پولیس نے چار افراد کو موت کے منہ میں پہنچانے والے بس ڈرائیور کے خلاف کاروائی درج کرلی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…