پیر‬‮ ، 27 اپریل‬‮ 2026 

افغانستان پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا،افغان صدر نے پاکستانی وزیراعظم کا فون سننے سے انکارکر دیا،پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے افغان حکومت نے بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘سے معاہدہ کر لیا، دھماکہ خیز انکشاف

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی دنیا نیوزکے پروگرام’’تھنک تھنک‘‘ میں خاتون اینکر عائشہ ناز نےہارون الرشید سے سوال پوچھا کہ 30جنوری کو ہمارے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کے حالیہ حالات کے حوالے فون کیا تو انہوں نے فون سننے سے انکار کر دیا، یہ کیسا رویہ ہے افغان حکام کا ، کیا وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں؟خاتون اینکر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے

معروف کالم نگار و تجزیہ کار ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ دو تین مغالطے ہیں بڑے شدید اس معاملے میں ایک امریکی مغالطہ ہےکہ وہ طاقت کے بل پر افغانستان کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں، محض طاقت کے بل پر نہیں ہوتا، کوئی بہت بڑی فوج بھی ہو اور اجنبی سرزمین میں جائے اور اس کے مقابلے میں کوئی ایک فیصد قوت بھی نہ رکھتا ہوتب بھی صرف مسئلہ حل طاقت سے نہیں ہوتا، اس کیلئے آپ کو ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کیلئے ۔ افغانستان ویسے بھی ایک ایسی سرزمین ہے جس میں کبھی کوئی فاتح کامیاب نہیں ہوا، دوسرا مغالطہ ہے جس کو استعماری گھمنڈ کہا جا سکتا ہے۔ تیسرا مغالطہ افغانستان کی اشرافیہ کو ہے کہ وہ پاکستان کو بلیک میل کر سکتے ہیں، انڈر پریشر لانے کیلئے فیصلے کر سکتے ہیں، اور اس میں وہ پاکستان کے بدترین دشمن کو بھی موقع دیں گے کہ وہ وہاں سے دہشتگردی کرنا چاہتا ہے تو کر لے، اور اس میں ایک ہماری غلطی بھی ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم ان سب حقائق کو سمجھیں جو امریکہ کے حوالے سے ، بھارت کے حوالے سے اور افغانستان کی اشرافیہ کے حوالے سے ہمیں درپیش ہیں۔ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ جو باڑ لگانے کا کام آج شروع کیا ہے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردی کی وجہ سے ہمارا 120بلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے تو یہ فیصلہ آج سے 10سے 12سال قبل ہو جانا چاہئے تھا

اور یہ بات میں 7سے 8سال سے کہہ رہا ہوں۔ ہارون الرشید نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 120بلین ڈالرز کا نقصان تو صرف پاکستان کوٹریڈ میں اٹھانا پڑا سمگلنگ کی وجہ سے۔وہاں جتنی گاڑیاں ہیں اس سے دس گنا زیادہ ٹائر منگوائے جاتے ہیں، وہاں کوئی بلیک ٹی نہیں پیتا مگر وہاں بلیک ٹی جاتی ہے جبکہ گاڑیوں کے پرزے بھی جاتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بے شمار چیزیں ہیں

جو وہاں منگوائی جاتی ہیں جو واپس آتی ہیں جس سے 100سے 150ارب روپے کا وہ ہمارا نقصان ہے۔ نہ ہم نے درست فیصلے کئے، ہم نے خواب دیکھا وہاں سٹریٹجک ڈیپتھ کا ،مگر ہم اس بات سے صرف نظر کر گئے کہ افغانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے ساتھ کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، آپ نے یہ خواب کیسے دیکھ لیا،آپ کے کیا تجزئیے تھے اس بارے میں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذاکرات کی اندرونی کہانی


پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…