منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی،وہ کام ہوہی گیا جس کا طویل عرصے سے انتظارتھا

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کو سافٹ ویئر بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تارکین وطن کو آنے والے انتخابات میں ووٹ کی سہولت فراہم کرنے کا تحفہ دیں اور اگر اس معاملے میں کوئی مشکل آتی ہے تو عدالت تعاون کرے گی ٗ ہمارا اصل مقصد تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے ٗتنقید کے باوجود ڈلیور کر رہے ہیں

جبکہ نادارنے عدالت کو رواں برس اپریل تک بیرون ملک پاکستانیوں کی ووٹنگ کیلئے سافٹ ویئر تیار کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ پیر کوسپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیئرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادار)نے عدالت کو رواں برس اپریل تک بیرون ملک پاکستانیوں کی ووٹنگ کیلئے سافٹ ویئر تیار کرنے کی یقین دہانی کرادی۔۔سپریم کورٹ میں چیئرمین نادرا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ووٹنگ کیلئے سافٹ ویئر اپریل کے آغاز میں تیار کرلیا جائے گا۔عدالت عظمی نے سافٹ ویئر کی تیاری کی پیشرفت رپورٹ ایک ماہ میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اصل مقصد تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تنقید کے باوجود ڈلیور کر رہے ہیں۔انہوں نے نادرا اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ تارکین وطن کو آنے والے انتخابات میں ووٹ کی سہولت فراہم کرنے کا تحفہ دیں، اور اگر اس معاملے میں کوئی مشکل آتی ہے تو عدالت تعاون کرے گی۔میاں ثاقب نثار نے کہا کہ تعلیم، رہنما اور قانون کی حکمرانی قوم کی تقدیر بدل دیتی ہے کیونکہ جن کے پاس علم تھا انہوں نے دنیا پر حکمرانی کی،

مجھے ملک کے بچوں کا مستقبل بہت بہتر نظر آرہا ہے۔سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کی جانب سے 2012 میں ایک سافٹ ویئر تیار کیا گیا تھا جس پر چیئرمین نادرا نے کہا کہ وہ سافٹ ایئر کارآمد نہیں تھا تاہم نئے سافٹ ویئر کے تحت پاکستانیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے اپنے ماتحت سفارتخانوں میں جانا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا دعوی ٰتھا کہ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کی حمایت انہیں حاصل ہے

تو پھر جب انتخابی اصلاحات کا قانون بنا تو پی ٹی آئی کہاں تھی اور اسمبلی میں اس معاملے کو کیوں نہیں اٹھایا گیا؟تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے قانون سے ایک شق نکال دی تھی جس کی وجہ سے ہم نے قانون سازی کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔خیال رہے کہ عام شہریوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں مختلف درخواستیں دائر کی گئیں تھیں جن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کی تعداد تقریبا 80 لاکھ ہے، لہذا انہیں ووٹ کا حق دیا جائے۔

بعد ازاں عدالت عظمی نے رواں ماہ 5 جنوری کو ان درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کرلیا تھا۔گزشتہ سماعت کے دوران سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو بہتری کی بجائے الجھن پیدا کرے۔یاد رہے کہ 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخابات میں حق رائے دہی دینے سے متعلق مقدمے میں پی ٹی آئی کی جانب سے فریق بننے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو اس حوالے سے الگ درخواست دائر کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…