ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

طاہرالقادری کے جلسے میں سارے لعنتی اکٹھے تھے اورمال روڈ کی خالی کرسیاں ان پر لعنت ۔۔۔۔! رانا ثناء اللہ انتہائی سخت باتیں کہہ گئے

datetime 21  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فیصل آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ طاہرالقادری کے جلسے میں ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجنے والے سارے لعنتی اکٹھے تھے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرقانون راناثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں انتشار کی سیاست کررہی ہے ٗ افراتفری، انتشار اور عدم استحکام ان کا ایجنڈا ہے ٗ ساڑھے 4 سال میں ان سب کے پاس کوئی ایشو نہیں تھا، لاہور میں ہونے والے جلسے میں بھی انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو موضوع بنا کر اپنی اپنی سیاست چمکائی اور جلسے میں ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجنے والے سارے لعنتی اکٹھے تھے،

ان کا کام ڈیڈ لائن پہ ڈیڈ لائن دینا ہے۔صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جلسے میں عمران خان اور شیخ رشید نے پارلیمنت پر لعنت بھیجی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مال روڈ کی خالی کرسیاں ان پر لعنت بھیج رہی تھیں جبکہ ان کے اس بیان کے جواب میں اب 21 کروڑ عوام ان پر لعنتیں بھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا آئین اور پارلیمنٹ ہمیشہ سرخرو ہوگی ٗ اس ملک میں قانون و آئین اور جمہوریت بھی رہے گی، شیخ رشید کو چاہئے کہ وہ اب اپنی توجہ انتخابات پر دیں ابھی ان کے پاس وقت ہے ٗ اگر اس بار انہیں عوام نے مسترد کردیا تو انہیں دھاندلی کا شور مچانے کا بھی موقع نہیں دیں گے، 2018 کے انتخابات میں ایک طرف انتشار اور دوسری طرف ترقی کی سیاست کھڑی ہوگی خیر کی قوتیں کامیاب ہوں گی اور شر وانتشار کی قوتیں ناکامی کا منہ دیکھیں گی۔سپریم کورٹ کے حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سے بیرئیرز ہٹانے کے حکم پر وزیرقانون نے کہا کہ کوئی عام شہری رکاوٹیں یا بیریئرز نہیں لگا سکتا یہ کام پولیس کا ہے ٗکسی کی جان کو خطرہ ہوتو پولیس رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے اور موجودہ وقت میں شریف خاندان کے ہرفرد کی جان خطرے میں ہے اگر چیف جسٹس مناسب سمجھیں تو اس حوالے سے تمام رپورٹیں عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔ حمزہ شہباز کے حوالے سے چیف جسٹس کے ریمارکس پر افسوس ہوا ٗایسے ریمارکس سیاستدانوں کے بارے میں نہیں ہونے چاہئے۔زینب قتل کیس کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کیس کی تفتیش تمام ایجنسیاں کررہی ہیں جن میں پولیس سمیت سول و عسکری ایجنسیز بھی شامل ہیں ٗ اب تک 800 سے زائد افراد کا ڈی این اے لیا جاچکا ہے ہمیں پوری امید ہے کہ زینب کے قاتل درندے کو کیفرکردار تک پہنچایا جائیگاتاہم اس کے لئے پولیس کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…