جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روپے کی بے قدری،صورتحال تشویشناک ہوگئی ڈالر کی 100 فیصد کیش درآمد بحال کرنے کی تیاریاں،بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی نسبت پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فاریکس ایسوسی ایشن کو قابل اجازت کرنسیوں کی برآمد کے عوض ڈالر کی 100 فیصدکیش درآمدبحال کرنے کا یقین دلادیا ہے۔یہ یقین دہانی گزشتہ روزڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک محمد بوستان ودیگرممبرایکس چینج کمپنیوں پر مشتمل ہنگامی اجلاس میں کرائی۔

ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہر فیصلہ قومی مفاد میں کیا جائے گا اور اگر ایکس چینج کمپنیوں کوڈالر کے علاوہ دیگر غیرملکی کرنسیوں کی برآمدات کے عوض ڈالر کی 100 فیصد کیش درآمدکرنے کی اجازت سے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہوسکتی ہے تویہ اجازت دے دی جائے گی۔دوران اجلاس فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات، امداد کی معطلی اور معاشی پابندیوں کی دھمکیوں کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کے علاوہ برآمد کی جانے والی دیگر غیرملکی کرنسیوں کے عوض صرف35 فیصد کیش ڈالردرآمدکرنے اور باقی ماندہ 65 فیصد بینکوں کے توسط سے لانے کے احکام یکم جنوری2018 سے موثربہ عمل ہونے سے ڈالر کی قدر میں اضافے کا رحجان غالب ہوا۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک کے اس اقدام کے بعد تجارتی بینکوں کی جانب سے پورے ہفتے کے بجائے صرف 2 دن ایکس چینج کمپنیوں کو ان کے حصے کا ڈالر سپلائی کیا گیا جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب ورسد کا توازن بگڑگیااور پیر کوڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ 113.50 روپے کی بلند سطح تک پہنچ گئے تھے تاہم اسٹیٹ بینک کے اس نئے اقدام کی اطلاعات کے باعث اوپن مارکیٹ میں روپے کی نسبت ڈالر کی قدردوبارہ90 پیسے گھٹ کر112.40 روپے کی سطح پرآگئی۔ ملک بوستان نے بتایا کہ عوام کی جانب سے اگر ڈالر کی خریداری محدود ہوگئی تو رواں ہفتے کے اختتام تک امریکی ڈالر کی قدر دوبارہ111 روپے کی سطح پر آجائے گی۔ انہوں نے ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کے اس نئے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی واستحکام پاکستانی روپے کی قدر کے استحکام سے مشروط ہے جس کے لیے فاریکس ایسوسی ایشن اپنا کردار ہمیشہ ادا کرتی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…