پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

’’ عدلیہ اور فوج کو کچھ کرنا پڑے گا‘‘ (ن) لیگی وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے اپنی ہی حکومت پر ایک بار پھر بجلیاں گرا دیں

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیروفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ نے کہاہے کہ سیاستدان عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوجائیں تو فوج اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ میرا اس جمہوریت سے کیا واسطہ جس میں خود میری حکومت مجھے دہشت گرد کہے ٗجس میں عوام کے مسائل حل نہ ہوں اور جن کے بیرون ملک اکاؤنٹ ہیں انہیں شہری

کے حقوق حاصل ہوں اور وہ جرائم بھی کریں تو پروٹوکول کے ساتھ پھریں۔اراکین پارلیمنٹ سے متعلق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے مبینہ جعلی فہرست کے حوالے سے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ 37 اراکین پارلیمنٹ کی اس فہرست کی خطرناک بات یہ ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ دیں کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں بھی دہشت گرد بیٹھے ہیں تو پھر ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگاجبکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں عدل و انصاف موجود نہیں ٗوزیر اعظم کی بات کو ہم نے قبول کرلیا لیکن کبوتر کی آنکھیں بند ہیں۔ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی افواہوں کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ٹیکنوکریٹس ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتے، لوگ ٹیکنوکریٹس کی باتیں ملک کی بقا کے لیے کرتے ہیں اور اس میں حقیقت بھی ہے کیونکہ اس وقت ملک کے حالات ایسے ہیں کہ لوگ ذہنی انتشار کا شکار ہیں، کوئی ادارہ ڈیلیور نہیں کر پارہا اور سیاستدانوں نے عوام کو مایوس کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اور سیاستدان عوامی مسائل حل نہ کر سکتے تو فوج کے کردار ادا کرنے پر کسی کو کیا گلہ ہوگا ٗپھر جو خون دیتا ہے ملک کی حفاظت بھی وہی کریگا تاہم یہ ایڈونچر کبھی نہیں ہوگا کیونکہ موجودہ آرمی چیف پارلیمنٹ و نظام کی عزت و احترام کرنے والے ہیں ٗوہ اپنے ادارے کو ایسے ایڈونچر میں کبھی نہیں ڈالیں گے لیکن اگر پارلیمنٹ اپنا کردار ادا نہیں کرتی تو فوج و عدلیہ کو اپنا

کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوںے کہاکہ اگر فوج و عدلیہ بھی عوامی مسائل حل نہیں کرتے اور ان کی امنگوں کو پورا نہیں کرتے تو جو لوگ سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں وہ بھی کرپشن کے لیے اپنا خون کیوں دیں۔مسائل کے حل کیلئے سیاستدانوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ رکاوٹ خود سیاستدان ہیں، ہم خود احتسابی کا عمل نہیں اپناتے اور اپنے کردار کو نہیں دیکھتے لیکن اپنے آپ کو حاکم

بھی بنانا چاہتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’میں نے نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ جب طوفان آئے تو بیٹھ جانا چاہیے اور دانائی و عقلمندی سے کام لینا چاہیے جبکہ انہیں ہٹ دھرمی نہیں دکھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شریف نے اپنے بڑے بھائی کو تمام ٹھیک مشورے دیئے لیکن اگر کوئی سمجھنا یا ماننا نہ چاہے تو ہوسکتا ہے اسے نقصان ہو۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…