کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سنیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پانامہ کیس جے آئی ٹی پر بہت دباؤ ہے۔ شریف برادران نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کی اربوں روپے کی جائیداد ہے، اب انہیں صرف یہ بتانا ہے کہ یہ رقوم کس زرائع سے حاصل ہوئی اور کیسے لندن پہنچی ہے۔ ایم کیو ایم ضیا الحق کی پیداوار ہے۔اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو ایم کیو ایم سے نہ جانچا جائے۔
قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ پانامہ کیس تفتیش میں نواز شریف نااہل ہوسکتے ہیں۔ جب جے آئی ٹی سے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے ہمارا جرم کیا ہے، کپتان کا بھی احتساب ہوگا۔عمران خان تمہارے خلاف بھی ایک جے آئی ٹی تیار کھڑی ہے۔اب وہ تبدیلی آئے گی جس کا بھٹو اور بے نظیر نے خواب دیکھا تھا، اس تبدیلی کا آغاز 9 جولائی کو ہوگا۔وہ جمعرات کی شب پیپلز پارٹی کے منظور کالونی میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر سینیٹر سعید غنی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید نے بھی خطاب کیا۔اعتزازاحسن نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ وابستگی پر مجھے اعزاز ہے ہی لیکن سعیدغنی پیپلزپارٹی کے قائدین میں سے ہیں۔ سعیدغنی کو میرٹ پر دیکھیں تین سال سے سعیدغنی کے ساتھ کام کیا ہے اس کی شخصیت سینٹ میں باعث وقار رہی ہے، سعید غنی پر تین سال میں ایک الزام نہیں۔سعیدغنی کو مخالفین بھی سنتے ہیں اور ہر محفل کا مرکز ہوتا ہے، اس حلقے کے عوام کو سعیدغنی جیسا امیدوار نہیں ملے گا دوسرے تو نہیں معلوم کہاں سے ہیں،ایم کیوایم کو تو اس حلقے سے امیدوار بھی نہیں ملا،اعتزاز احسن نے کہا کہ آج تک کوئی ایسی حکومت نہیں آئی جس سے ایم کیو ایم نے اتحاد نہ کیا ہو۔
اردو بولنے والوں کو ایم کیوایم سے نہیں ناپنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ضیا الحق نے تفریق پیدا کرنے کے لیے اسلحہ دیا تھا۔ ایم کیو ایم نے کیا کیا ہے 31 سال سے یہ حکمران ہے بلدیہ ان کیپاس ہے۔ایم کیو ایم کو جس شہر نے ان کو پیار دیا اس ہی شہر میں انھوں نے بوری بند لاشیں دیں۔ایم کیو ایم کا اسلحہ کنوں اور ٹیکنوں سے نکل رہا ہے۔
یہ ضیا الحق کی پیداوار ہے۔اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو ایم کیو ایم سے نہ جانچا جائے۔اردو بولنے والے اور مہاجر بڑے مہذب لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ لندن کے فلیٹس کس لئے خریدے گے نواز شریف یہ ثابت نہیں کرپا رہے ہیں ،شریف برادران نے خود تسلیم کیا ہے کے ان اربوں روپے کی جائیداد ہیں اب انہیں صرف یہ بتانا ہے کہ یہ رقوم کس زرائع سے حاصل ہوئی اور کیسے لندن پہنچی ہے۔
جے آئی ٹی پر بہت دبا ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جو سپریم کورٹ پر حملہ کرچکی ہے۔ قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ سعید غنی نے پی ایس 114 کا میدان مار لیا ہے،سعید غنی کو ممبری نہیں چاہیے، پی پی نے سعید غنی کو تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے،یہ جس جماعت میں ہوتے ہیں اس کی عزت کا سامان ہوتے ہیں۔ایک جماعت کا امیدوار سنا ہے اربوں کھربوں پتی ہے۔
سعیدغنی نے اس حلقے سے ہوکر پورے پاکستان کی نمائندگی کی ہے، ایم کیو ایم کو اس حلقے سے امیدوار نہیں ملا الیکشن والے دن پولنگ ایجنٹ بھی نہیں ملے گا،الیکشن والے دن سب کارکن ایک ایک ووٹ کی حفاظت کریں،انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے جیالے میرے ساتھ ہوں تو نوازشریف کو پنجاب میں شکست دے دوں، اس طرح کے کارکنان کے ہوتے ہوئے سعیدغنی کو کس طرح شکست ہوسکتی ۔
سعید غنی کا 9 میں فیصلہ ہوگا اور دس جولائی کو جے آئی ٹی اپنی رپورٹ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب نکلتے ہیں جے آئی ٹی سے کہتے ہیں ہمیں بتایا جائے ہمارا جرم کیا ہے، اب وہ تبدیلی آئے گی جس کا بھٹو اور بے نظیر نے خواب دیکھا تھا، انہوں نے کہا کہ کپتان کا بھی احتساب ہوگا۔عمران خان جو تمہارے دائیں بائیں کھڑے ہیں کیا ان کی گواہی دے سکتے ہو،عمران خان تمہارے خلاف بھی ایک جے آئی ٹی تیار کھڑی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ پی ایس 114 کے عوام کو مبارک اور کراچی کے اردو بولنے والوں کو مبارک دیتا ہوں کہ انہوں نے ٹھپہ مافیہ کا خاتمہ کر دیاہے۔یہ ضمنی انتخاب تاریخی ہوگا۔عوامی نیشنل پارٹی پی ایس 114 میں پیپلز پارٹی کی حمایت کرتی ہے۔سعید غنی کی گارنٹی میں لیتا ہوں کے یہ عوام کے لیے کام کریں گے۔سینیٹر سعید غنی نے کہا کہمخالفین نے حلقے کی شکل دیکھی نہیں تھی مگر تین تین عید کی نمازیں یہاں پڑھیں ہیں ۔
آج کے اسٹیج پر تمام جماعتوں کے لوگ موجود ہیں جو ماضی میں کسی نہ کسی کو ووٹ دیتے تھے۔یہاں کے لوگوں نے صرف اس وجہ سے میرے حمایت کی کہ لوگ جانتے ہیں میں مقامی ہوں۔ ن لیگ کے امیدوار کی الیکشن مہم گورنرسندھ اور وفاقی وزرا چلارہے ہیں، انہوں نیکہا کہ یہ شہر زبان قومیت اور مذہبی بنیاد پر تقسم تھا اب جڑگیا ہے،یہ انتخاب پاکستان کی تاریخ کا منفرد انتخاب بن گیا ہے



















































