ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں منہ کے کینسر کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ

datetime 17  جولائی  2026 |

کراچی(این این آئی) سندھ، خصوصاً کراچی میں منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران صوبے میں منہ کے کینسر کے کیسز میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس بیماری سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد اور اموات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق گٹکا، ماوا، پان، چھالیہ، مین پوری اور دیگر تمباکو سے بنی مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے منہ کے کینسر کو ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق کراچی کے ضلع جنوبی سمیت ساحلی اور مضافاتی علاقوں سے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ میں کینسر کے علاج کے لیے جامع اور خصوصی طبی سہولیات کا فقدان مریضوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ کراچی میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مراکز میں ریڈی ایشن تھراپی کی سہولت موجود ہے، تاہم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں یہ سہولیات ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق کراچی کینسر رجسٹری نے 2017 سے 2021 کے دوران سندھ میں منہ کے کینسر کے 65 ہزار 886 کیسز ریکارڈ کیے، جبکہ ڈاؤ کینسر رجسٹری کے مطابق 2010 سے 2019 کے دوران منہ اور ہونٹوں کے کینسر کے 22 ہزار 858 مریض رپورٹ ہوئے۔

سول اسپتال کراچی کے شعبہ کینسر کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نور محمد سومرو نے کہا کہ سندھ میں منہ کے کینسر کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کی بنیادی وجہ گٹکا، ماوا، پان، چھالیہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا بے دریغ استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل میں ان اشیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کم عمری میں کینسر کے مریض سامنے آ رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ڈاکٹر نور محمد سومرو نے حکومت سندھ پر زور دیا کہ صوبے میں ایک جدید اور خصوصی کینسر اسپتال قائم کیا جائے، جہاں تشخیص، سرجری، ریڈی ایشن، کیموتھراپی اور دیگر تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔ماہرین نے والدین، تعلیمی اداروں اور متعلقہ حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ نوجوانوں کو گٹکا، ماوا، پان، چھالیہ اور تمباکو سے بنی دیگر مضر صحت مصنوعات کے استعمال سے روکنے کے لیے مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے اور ان مصنوعات کی فروخت پر قانون کے مطابق سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…