اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لاڑکانہ کیڈٹ کالج میں اساتذہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والا طالب علم محمداحمد امریکہ میں زیر علاج ہے جہاں اس کی گردن میں موجود سوجن کم ہو گئی ہے ، ڈاکٹروں نے اس کا طبعی معائنہ کیا ہے اور وہ جلد اس کے واپس پاکستان
آنے سے متعلق میڈیکل رپورٹس آنے پر فیصلہ کر لیں گے کہ محمد احمد کو واپس وطن بھیج دیا جائے یا اس کو مزید علاج کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ لاڑکانہ کیڈٹ کالج میں طالب علم محمد احمد پر کالج کے اساتذہ نے بدترین تشدد کیا تھا جس سے وہ ذہنی طور پر متاثر ہوگیا تھا ۔ اس کی گردن دبائے جانے سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جس سے اس کی بولنے کی صلاحیت ختم ہو گئی تھی اور زبان باہر کو لٹک گئی تھی۔ محمد احمد کے والد نے بیٹے کے علاج کی کافی کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ میڈیا پر خبر آنے پر سیکرٹری کالجز نے طالب علم محمد احمد کے میڈیکل کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا جبکہ طالب علم کے والد نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔17جنوری 2017کو لاڑکانہ کیڈٹ کالج میں اساتذہ کے تشدد سے معذور ہونے والے طالب علم احمد کے علاج کے لیے سندھ حکومت نے فنڈزجاری کر تے ہوئے ڈھائی لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم امریکی اسپتال کے اکائونٹ میں ٹرانسفرکردی تھی جو کہ محمد احمد کے علاج کے سلسلے کی پہلی قسط تھی۔محمد احمد کا علاج امریکہ کے سنسناٹی ہسپتال میں جاری ہے۔





















































