جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان میں ہم وطنوں کا اغواء ، 11چینی باشندوں کی ملک واپسی کی تیاریاں

datetime 3  جون‬‮  2017 |

کوئٹہ(آن لائن) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جناح ٹا ؤن سے گزشتہ ماہ اغوا ہونے والے2 چینی شہریوں کی بازیابی میں پیشرفت نہ ہونے کے بعد اس علاقے میں رہائش پذیر 11 چینی باشندوں نے وطن واپسی کے لیے کراچی کا رخ کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 مئی کو اغوا ہونے والا چینی جوڑا ایک چینی زبان سکھانے والے ادارے میں استاد تھا،

جنہیں تین مسلح افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔مسلح افراد نے ان ٹیچرز کے ساتھ موجود تیسری چینی خاتون کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں جبکہ اغوا کے مقام پر موجود ایک راہ گیر نے جب ان افراد کو بچانے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے اسے گولی ماردی تھی۔ان افراد کے اغوا ہونے کے بعد سے اس علاقے میں رہائش پذیر 11 چینی باشندے، جن میں 3 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں، کو سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں چینی قونصل خانے کے اہلکاروں نے رواں ہفتے کے آغاز میں ان 11 افراد سے ملاقات کی،

جہاں ان کی چین واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔کوئٹہ کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او)عبد الرزاق چیمہ نے میڈیاکو بتایا کہ یہ افراد تقریبا ایک سال سے کوئٹہ میں مقیم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دو چینی باشندوں کے اغوا کے بعد پولیس کی جانب سے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے ، این جی اوز، اقوام متحدہ کے اداروں کے لیے کام کرنے والے چینی اور دیگر افراد کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا تھا۔عبدالرزاق چیمہ کے مطابق جناح ٹاؤن میں جنوبی کوریا کے شہریوں کے دو خاندان رہائش پذیر ہیں اور انہیں بھی پولیس کی جانب سے سخت سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے۔ان کے مطابق یہ دو گھرانے چار سال سے کوئٹہ میں ہی آباد ہیں۔ریجنل پولیس آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ مغوی چینی باشندوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس کو تاحال ان افراد کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…