منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

سندھ رینجرز کوئی سیکیورٹی کمپنی نہیں, ،چوہدری نثارکاپارہ ہائی ،سندھ حکومت کوکھری کھری سنادیں 

datetime 19  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ رینجرز کی کارکردگی اور قربانیوں کو ہر تین مہینے بعد غیر ضروری طور پر متنازعہ بنا دیا جاتا ہے،رینجرز کراچی میں اپنی ذمہ داریاں تبھی پوری کر سکتے ہیں جب انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت اختیارات دینے میں لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے،صوبائی حکومت نے مفادِ عامہ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری

نہ کیا تو وفاقی حکومت متبادل آئینی و قانونی آپشنز پر غور کرے گی ۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ رینجرز کی کارکردگی اور انکی قربانیوں کو ہر تین مہینے بعد غیر ضروری طور پر متنازعہ بنا دیا جاتا ہے۔رینجرز کراچی کے اندر اپنی ذمہ داریاں تبھی پوری کر سکتے ہیں جب انہیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت اختیارات دینے میں لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے، حکومت سندھ کا انہیں محدود اختیارات دینے کا عندیہ خلاف قانون اور خلاف ضابطہ ہے کیونکہ کسی بھی قانون کو انتظامی آرڈر کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی مضحکہ خیز ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت رینجرز کو اپنے گارڈز کے طور پر تو استعمال کرنا چاہتی ہے مگر کراچی کے عوام کے تحفظ کے لئے متعلقہ قانون کے تحت انہیں اختیارات دینے کے لئے تیار نہیں۔ سندھ رینجرز کوئی سیکیورٹی کمپنی نہیں کہ انکو وی آئی پیز کی سیکورٹی پر لگا دیا جائے۔انہوں نے نے کہا کہ یہ عذر بھی بلا جواز اور غیر منطقی ہے کہ حکومت سندھ رینجرز کو اسی طرز پر اختیارات دینا چاہتی ہے جس طرح حکومتِ پنجاب نے دیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں بھی رینجر ز کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کی دفعات کے تحت اختیارات دیے گئے ہیں اور انہیں حکومتِ پنجاب یا وفاقی حکومت نے محدود نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے عوام رینجرز کی کارکردگی پر نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ ان پر اعتماد کرتے ہیں اور یہ بات انتہائی حیران کن ہی نہیں بلکہ باعث تشویش بھی ہے کہ صوبائی حکومت اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کی خاطر کراچی کے عوام کی سیکیورٹی کو کمپرومائز کرتی ہے۔ ایک طرف تو وہ خود اپنے لئے رینجرز کی سیکیورٹی چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنے پر مضر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت نے مفادِ عامہ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا تو وفاقی حکومت متبادل آئینی و قانونی آپشنز پر غور کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…