بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

چوہدری نثارکابڑا اقدام، ایف آئی اے میں آپریشن کلین اپ،ایسا کام ہوگیا جو آج تک کبھی نہیں ہوا

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر ایف آئی اے کو قابل اعتراض شہرت کے حامل اہلکاروں اور افسران سے پاک کرنے کی مہم میں مزید پیش رفت ہوئی ہے ، دیگر چار مشکوک شہرت کے حامل افسران کو بھی آئندہ دو سالوں کے لئے زیرِ نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انکوائری کمیٹی نے بارہ افسران کے نام مشکوک لسٹ سے نکالنے اور بیس افسران کے اثاثہ جات کی تحقیق و تفتیش کی سفارش

کی ہے ، وزارت داخلہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیرِ داخلہ کے حکم پر ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور آئی بی کے سینئر افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی کی جانب سے ایف آئی اے کے بیس افسران کے اثاثہ جات کی تحقیق و تفتیش کی سفارش کی ہے اور کہا گیا ہے کہ انکوائری کی تکمیل تک ان بیس افسران کوکسی اہم عہدے پر تعینات نہ کیا جائے، کمیٹی نے دیگر چار مشکوک شہرت کے حامل افسران کو بھی آئندہ دو سالوں کے لئے زیرِ نگرانی رکھنے کا فیصلہ کای ہے۔ نگران افسر کی جانب سے مذکورہ افسران کے چال چلن اور ایمانداری سے متعلق سالانہ رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ انکوائری کمیٹی کی جانب سے بارہ افسران کے نام مشکوک لسٹ سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں ان افسران پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا لہذا ان کے نام مشکوک شہرت کے حامل اہلکاروں کی فہرست سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نگران افسر کی جانب سے مذکورہ افسران کے چال چلن اور ایمانداری سے متعلق سالانہ رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ انکوائری کمیٹی کی جانب سے بارہ افسران کے نام مشکوک لسٹ سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں ان افسران پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا لہذا ان کے نام مشکوک شہرت کے حامل اہلکاروں کی فہرست سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…