ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی امریکی انتخابات میں بھی آمنے سامنے, پی ٹی آئی اور ن لیگ میں کیا ہوتا رہا ؟حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں 

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لندن(آئی این پی )امریکی صدارتی انتخابات کے دوران پاکستانی جھلک دیکھنے کو نظر آئی ، وائٹ ہاؤ س پر اقتدار قائم کرنے کی جنگ جیسے مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو رہی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق رکن شکایت کرتے نظر آئے کہ وہ کسی کی بات نہیں سنتے، چاہے اس میں ان کا خود ہی کا نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔بالکل جس طرح جب عدالتیں عمران خان کے حق میں بات کرتی ہیں تو وہ ان کی تعریف کرتے ہیں اور جب فیصلہ پسند نہ آئے تو انگلیاں اٹھاتے ہیں اسی طرح کا رشتہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایف بی آئی کے درمیان نظر آیا۔ہلیری کی ای میل کی تحقیقات کا اعلان ہوا تو وہ ایف بی آئی کے چیف کے قصیدے پڑنے لگے اور اب جب ہلیری کو ایک مرتبہ پھر بے قصور قرار دیا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے پرانا راگ پھر سے الاپنا شروع کر دیا ہے کہ یہ نظام ہی بدعنوان ہے۔ٹرمپ کے حامی کسی سروے، منطق یا حقائق کو تب تک سچ نہیں مانتے جب تک وہ ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں۔ڈونلڈ ٹرمپ کوبھی لبرل امریکہ کی سیاسی بلوغت پر دھبہ بتا رہے ہیں۔تو دوسری طرف ہلیری کلنٹن کی مالی حیثیت وزیر اعظم نواز شریف کی طرح متنازع رہی۔ متعدد امریکی کلنٹن خاندان کے اثاثوں کو اسی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس طرح پاکستانی وزیر اعظم کے خاندان کے اثاثوں کو۔کسی حد تک امریکی عوام کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سیکریٹری آف سٹیٹ کے طور پر کام کرنے والی ہلیری کلنٹن نے اپنا سرکاری عہدہ کلنٹن فانڈیشن کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا ہو گا۔ووٹنگ سے صرف ایک ہفتے پہلے ایف بی آئی کی جانب سے ای میلز کی تحقیقات دوبارہ کرنے کے بیان کے بعد جب متعدد سرویز میں ہلیری کی برتری کو دہچکہ پہنچا تو وہ غصے پر قابو نہ پا سکیں۔انھوں نے فورا ایف بی آئی پر سیاسی مداخلت کا الزام لگایا جسے بیشتر ماہرین نے نامناسب بیان قرار دیا۔بیشتر کے خیال میں کلنٹن کے ردعمل نے ریاستی اداروں پر انگلی اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا ہے، اور جیت کی صورت میں یہ سوال بہی اٹہایا جا رہا ہے کہ آخر کلنٹن اور ایف بی آئی کے چیف مستبقل میں کیسے مل کر کام کریں گے۔40 فیصد امریکی پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں ۔ انتخابات کا نتیجہ تو بس اب آیا ہی چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکی سیاست اور جمہوریت پستی کی اس گہرائیوں سے نکل پائے گی جہاں اس انتخابی مہم نے اسے دھکیل دیا ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…