جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

افغان مہاجرین۔لالچ بُری بلا ! ہزاروں پاکستانیوں نے خودہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی دے ماری

datetime 25  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین ڈاکٹر عمران زیب نے انکشاف کیا ہے کہ ہزاروں پاکستانی شہری مراعات حاصل کرنے کیلئے خود کو افغان مہاجرین ظاہر کرکے اپنی پاکستانی شہریت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سرحدی و ریاستی امور کا اجلاس چیئرمین غالب خان کی زیر صدارت ہواجس میں چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین نے بتایا کہ 20 ہزار پاکستانیوں نے مراعات حاصل کرنے کے لیے افغان مہاجرین کے کارڈ بنوائے، جس پر نادرا نے ان کے شناختی کارڈز بلاک کردیئے ہیں۔اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان میں ایسے ہزاروں افغانی موجود ہیں، جنہوں نے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرلیے ہیں۔اجلاس میں وزارت سیفران کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ افغان مہاجرین کو مدت قیام کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔کمیٹی اراکین نے افغان مہاجرین کے لیے آنی والی امداد میں خرد بْرد کی شکایت بھی کی۔رکن قومی اسمبلی نذیر خان نے کہا کہ افغان مہاجرین کے لیے آنے والی غیر ملکی امداد کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں خرچ ہوتی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ افغان مہاجرین کی امداد کے لیے دیئے گئے پیسے کہاں خرچ ہوئے؟اراکین نے وزارت سیفران کے حکام سے سوال کیا کہ جب حکام خود امداد کے پیسے ہڑپ کر رہے ہوں تو افغان مہاجرین پاکستان سے افغانستان کیسے جائیں گے۔چیئرمین کمیٹی غالب خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، کمیٹی کو اس پر شدید تحفظات ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…