بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

کا لا باغ ڈیم ،مسئلہ کیسے حل ہوگا؟حکومت نے واضح کردیا

datetime 17  اگست‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی )وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی محمد یو نس ڈاگا نے کہا ہے کہ کا لا باغ ڈیم ایک سیا سی مسئلہ ہے اسے سیاستدان ہی حل کر سکتے ہیں ،جنوری 2018ء میں بجلی کی پیداوار کے متعدد منصوبے مکمل ہو جائیں گے جس کی بنیاد پر لو ڈ شیڈنگ کا مکمل طورپر خاتمہ ہو جائے گا،رواں سال کے آخر میں داسو ہائیڈروپاورپراجیکٹ کاسنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا ،نندی پور پاور پراجیکٹ کو ٹھیکے پر نہیں دینا چاہیے تھا،اس وقت سرکلر ڈیٹ 329ارب ہے جو کہ رواں سال کے آخر تک 310ارب رہ جائیگا ، بجلی کے مجموعی لائن لاسز 23.4 فیصد ہیں ، کر پشن اور لائن لاسز میں کمی کیلئے خاطر خواہ انتظامات کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے گزشتہ روز واپڈا ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا ۔ اس موقع پر چیئرمین این ٹی ڈی سی فیاض احمد چوہدری بھی مو جو د تھے ۔ محمد یو نس ڈاگا نے کہا کہ بجلی کے متعدد پیداواری منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جس سے جنوری 2018ء میں لو ڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی اور بہت جلد پاکستان بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہو جائے گا کیونکہ 2018ء میں بجلی کی طلب 25000میگاواٹ اور پیداوار اس سے کہیں زیا دہ ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے برعکس بجلی کے منصوبوں کی تعمیر کرنے پر اس کیخلاف مقدمات کرنے میں پاکستان کی جانب سے تاخیر کی گئی لیکن اس کی ذمہ دار سابق حکومت بھی ہے جس نے اس پر کام نہیں کیا ، بھارت کو کشن گنگا اور رتلے ڈیم پر تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے ، بھارت کے متنازعہ بجلی گھر رتلے ،کشن اور گنگا کیخلاف عالمی مصالحتی عدالت میں گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سرکلر ڈیٹ 329ارب ہے جو کہ رواں سال کے آخر تک 310ارب رہ جائیگا ۔ ٹرانسمیشن لائنز کی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے ،تمام نئے منصوبوں کے ساتھ نئی ٹرانسمیشن لائنز بھی بچھائیں گے ،لاہور میں80سے 90 فیصد علاقوں میں ٹرانسمیشن لائنز کے مسائل پر قابو پاچکے ہیں ،غازی گرڈ اسٹیشن کواپ گریڈ کر رہے ہیں جس سے اور بھی بہت آسانی ہو جائے گی ۔ محمد یونس ڈاگا نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ نندی پو رپراجیکٹ میں نقصان ہوا لیکن آئندہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ملک کا پیسہ ضائع کرنے کے لئے نہیں ہے۔ اس منصوبے کو ٹھیکے پر نہیں دینا چاہیے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ میٹر ریڈرز کی کرپشن کو روکنے کیلئے موبائل میٹرریڈرز کی ایک بہت بڑی تعدادکو بھرتی کیا گیا ،لاہور میں 80فیصد موبائل میٹر ریڈنگ ہو رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…