بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

سانحہ کوئٹہ،حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کرسکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 8  اگست‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحہ کوئٹہ کیخلاف سات روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر حکومت یہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے اور انکو آنے دے جو قوم کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں ،وکلاء انصاف کے ادارے کااہم ستون ہیں ،وکلاء عوام کے بنیادی حقوق ، انصاف کی فراہمی اور جمہوریت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اس لئے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ قوم میں بد دلی پھیل سکے ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹرعلی ظفر نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ یہ وکلاء پر نہیں بلکہ انصاف پر حملہ ہے ،اس کے ذریعے انصاف کے ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں ، عوام کو انصاف کی فراہمی اور انکے حقوق کیلئے لڑتے ہیں ، جمہوریت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اس لئے ایک سازش کے تحت انہیں کمزور کرنے کی سازش کی گئی ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوا لیکن ہم حوصلہ نہیں ہاریں گے ، کمزور نہیں ہوں گے بلکہ مزید طاقتور ہوں گے اور وکلاء کو کمزور کرنے کی کوشش ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں کا ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں جس میں لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی جائے گی کیونکہ ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں بچے ، بوڑھے ، خواتین ،وکلاء شہید ہوتے ہیں ایک اجلاس ہوتا ہے میڈیا میں چار روز چلتا ہے اور پھر ایک اور واقعہ ہو جاتا ہے ۔ لاء اینڈ آرڈر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہر شہری کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے ۔ اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے اور ان کو آنے دے جو قوم کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی وکلاء تنظیم کے صدر کو بڑی دیر سے دھمکیاں مل ہو رہی تھیں لیکن انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔ وکلاء انصاف کے ادارے کے ستون ہیں انہیں بھی اسی طرح تحفظ ملنا چاہیے جس طرح سیاستدانوں اور ججز صاحبان کو مل رہا ہے ۔ ہم صرف وکلاء کے لئے نہیں بلکہ ایک عام شہری کے لئے بھی حکمت عملی بنانے جارہے ہیں ۔ ہم چار روزہ سوگ کے بعد اس معاملے کو چھوڑ نہیں دیں گے، شہیدوں کا خون ضائع نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگرد تو یہی چاہتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی کا سلسلہ رک جائے لیکن ہم انصاف کی فراہمی کے لئے ڈیوٹی دیتے رہیں گے بیشک ہمیں مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ دہشتگرد وں کا انٹیلیکچول پر حملہ قوم کو بد دل کرنے کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے وکلاء سے اظہا ریکجہتی کیلئے وفد بلوچستان بھی جائے گا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے حالات میں وزیر اعظم ، وزرائے اعلیٰ روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز کریں گے اس میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلیاں کی جائیں لیکن بڑے دنوں سے میڈیا میں نہیں دیکھا کہ اس کی کوئی میٹنگ ہوئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…