اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صوبہ پنجاب میں 40 ارب روپے کیس سرکاری زمین پر سیاستدانوں نے قبضہ کر رکھا ہے اس میں 28 ارب روپے کی زمین ریونیو بورڈ پنجاب جبکہ دس ارب سے زائد کی زمین وزارت جنگلات پنجاب کی ملکیت میں ہے۔ وزارت جنگلات پنجاب کے افسران نے ایک ارب 15 کروڑ 87 لاکھ روپے کی قیمتی لکڑی من پسند کمپنیوں کو فروخت کرکے ریکوری کرنا بھی بھول گئے ہیں۔ آن لائن کو ملنے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 40 ارب روپے سے زائد سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھاہے جس کو پنجاب حکومت واگزار کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ پنجاب کے ریونیو دیپارٹمنٹ کی ملکیت میں 28 ارب روپے کی زمین تھی جس پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا ہے۔ یہ زمین کمرشل اور زرعی بھی ہے۔ وزارت جنگلات پنجاب 14 ہزار ایکڑ زمین جس کی مالکجتی دس ارب سے زائد ہے پر بھی قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک حساس ادارے نے اپنی رپورٹ پیش کرکے مطالبہ کیا تھاکہ وہ اربوں روپے کی سرکاری زمین بااثر لوگوں کے قبضہ سے واگزار کروائیں لیکن وزیراعلیٰ نے سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک انچ سرکاری زمین بااثر افراد سے واگزار نہیں کراسکے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات پنجاب کے کرپٹ افسران نے ایک ارب 15 کروڑ سے زائد کی لکڑی ٹمبر مافیا کو فراہم کردی جس سے قومی خزانہ کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے افسران نے 11 کروڑ کی قیمتی لکڑی مجمروں سے پکڑی تھی لیکن لکڑی کومارکیٹ میں فروخت کرنے کی بجائے ضائع کردی جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈویژنل فاریسٹ آفیسر بھکر ‘ خوشاب ‘ سرگودھا‘ میانوالی‘ بہاولپور ‘ ملتان ‘ لاہور‘ شیخوپورہ نے 7 کروڑ روپے کی قیمتی لکڑی فروخت کردی ان افسران کے خلاف سیکرٹری جنرلات انکوائری مکمل نہیں کر سکے اور قومی چور دوبارہ انہی پوسٹوں پر تعیانت کر دیئے گئے ہیں سرکاری دستاویزات کے مطابق فاریسٹ آفیسر جھنگ ‘ بہاولپور ‘ خوشاب‘ لیہ ‘ جہلم ‘ مظفر گڑھ کے خلاف کروڑوں روپے کی لکڑی چوری کرنے کے مقدمات درج ہوئے ہیں لیکن سزا کسی کو بھی نہ ہوسکی۔ افسران نے ساٹھ لاکھ مالیت کی گاڑیاں فروخت کرنے کی بجائے ضائع کردیں۔ تاہم کارروائی کسی کے خلاف عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ دستاویزات کے مطابق لاہور اور بہاولپور کے چڑیا گھر (ZOO) میں کیفے ٹیریا اور بچوں کے کھیلنے کے اوزار کا ٹھیکہ دینے میں مجموعی طور پر سات کروڑ کی کرپشن سامنے آئی ہے۔ افسران نے مختلف جنگلات کا ٹھیکہ دے کر ۲۲ کروڑ سے زائد کی مالی بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہین ۔ چھانگا مانگا جنگل میں نئی منی ٹرین کی خرید میں مبینہ طور پر 48 ملین کی کرپشن سامنے آئی ہے تاہم کسی افسر کو کرپشن کا ذمہ دار نہیں ٹھرایا جاسکا۔ محکمہ جنگلات پنجاب کے افسران نے اجازت کے بغیر 11 ملین کے پیٹرول کی خرید کے نام پر حضم ئے گئے ہیں۔ محکمہ جنگلات پنجاب میں موجود مافیا نے مختلف اقسام کی لکڑی کنٹریکٹر کو فراہم کی تھی لیکن ان نجی کنٹریکٹروں سے ایک ارب سے زائد کے واجبات وصول ہی نہیں کئے گئے۔ آن لائن کے پوچھنے پر محکمہ جنگلات پنجاب کے افسران نے بات کرنے سے انکار کردیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم نے بھی اس اہم موضوع پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں 40 ارب کی سرکاری زمین پر مافیا کا قبضہ‘ وزیراعلیٰ خاموش
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق فیصلہ کرلیاگیا
-
یکم جولائی سے کن جائیدادوں کی خرید وفروخت نہیں ہو سکے گی؟ اہم خبر
-
ریو سیکریٹو
-
گھر داماد نے 4 سال تعلقات کے بعد بھاگ کر ساس سے کورٹ میرج کرلی
-
قیمتی الیکٹرک بائیک اب ہر شہری کی دسترس میں! حکومت کا بڑا فیصلہ
-
رواں سال مون سون بارشیں کم ہوں گی یا زیادہ؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا
-
جھنگ کی طالبہ ایشال فاطمہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟ پنجاب حکومت نےمالی سال 27-2026کےبجٹ خدوخال کوحتمی ش...
-
بجلی سستی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری
-
لاہور: بینک میں 5 کروڑ جمع کرانیوالے شہری سے 2 بینک ملازمین رقم لیکر فرار
-
لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں نجی اسپتال چھوڑ کر فرار ہونیوالے تینوں ملزمان گرفتار
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق نے واقعے کی تفصیلات بیان کردیں
-
لٹن داس دنیا بھر میں رضوان کو بدنام کرنے لگے



















































