جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

پاکستان کو طیاروں کی فروخت، سینئر امریکی ارکان کانگریس کی مخالفت میں اضافہ

datetime 27  فروری‬‮  2016 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی کانگریس کے سینئر ارکان نے پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کرنے مخالفت تیزکر دی ہے۔جمعرات کو امریکی ارکان کانگریس اور ارکان سینیٹ کی جانب سے اس ضمن میں دو مختلف قرار د ادیں پیش کی گئیں۔ دونوں میں طیارے فروخت کرنے کے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کی گئی۔ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے سینیٹ میں ایک مشترکہ قرارداد جمع کرائی جس میں اس معاہدے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مشکلات کا شکار رہے ہیں،جنگ رپورٹر واجد علی سید کے مطابق حکومتِ پاکستان کو امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے رویے سے ایسا نہیں لگتا۔ جس وقت ہم انہیں اربوں ڈالرز کی امداد دے رہے ہیں اس وقت ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ افغان طالبان کو پاکستانی انٹیلی جنس اور فوج سے مدد ملتی ہے۔ تاہم، یہ قرارداد کانگریس کمیٹی کو بھجوائی گئی ہے جو اس کا جائزہ لینے کے بعد ایوان یا پھر سینیٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کرے گی۔ اسی طرح یورپ، یورو ایشیا اور ابھرتے ہوئے خطرات کیلئے قائم ایوان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ اور رکن کانگرنس ڈینا روہرا بیکر نے بھی مشترکہ قرارداد پیش کی۔ روہرا بیکر دو معاملات سامنے لائے، ان میں ایک بلوچستان جبکہ دوسرا ڈاکٹر شکیل آفریدی کے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان امریکا سے ہتھیار لے کر اپنے ہی شہریوں بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کیا اور انہیں جیل میں قید رکھا ہوا ہے، یہ گرفتاری امریکا کی جانب دشمنی پر مبنی رویے کا اظہار ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ امریکا پاکستان کو فوجی ساز و سامان نہ دے۔ اسی دوران خارجہ امور کمیٹی کے با اثر رکن کانگریس ایلیٹ اینجل نے وزیر خارجہ جان کیری سے پاکستان کو طیارے فروخت کرنے کے اس معاہدے پر سوالات کیے ہیں۔ سینیٹر جان کیری کمیٹی میں سالانہ بجٹ تجاویز کے حوالے سے بیان دے رہے تھے۔ ایلیٹ اینجل نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان دہرا کھیل کھیل رہا ہے کیونکہ اپنے ملک میں وہ دہشت گردی کیخلاف کارروائی کر رہا ہے جبکہ بھارت اور افغانستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے کیونکہ اس کی نظر میں یہ پاکستان کے قومی مفادات کا حصہ ہے۔ پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے اس صورتحال پرفوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ پرسکون انداز سے طے پا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے طیاروں کی فروخت کی وجوہات بیان کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے عوامی سطح پر جاری کیے گئے بیان میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی تکمیل سے باہمی تعاون کے متفقہ ڈھانچے کے تحت پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…