جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کو طیاروں کی فروخت، سینئر امریکی ارکان کانگریس کی مخالفت میں اضافہ

datetime 27  فروری‬‮  2016 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی کانگریس کے سینئر ارکان نے پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کرنے مخالفت تیزکر دی ہے۔جمعرات کو امریکی ارکان کانگریس اور ارکان سینیٹ کی جانب سے اس ضمن میں دو مختلف قرار د ادیں پیش کی گئیں۔ دونوں میں طیارے فروخت کرنے کے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کی گئی۔ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے سینیٹ میں ایک مشترکہ قرارداد جمع کرائی جس میں اس معاہدے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مشکلات کا شکار رہے ہیں،جنگ رپورٹر واجد علی سید کے مطابق حکومتِ پاکستان کو امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے رویے سے ایسا نہیں لگتا۔ جس وقت ہم انہیں اربوں ڈالرز کی امداد دے رہے ہیں اس وقت ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ افغان طالبان کو پاکستانی انٹیلی جنس اور فوج سے مدد ملتی ہے۔ تاہم، یہ قرارداد کانگریس کمیٹی کو بھجوائی گئی ہے جو اس کا جائزہ لینے کے بعد ایوان یا پھر سینیٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کرے گی۔ اسی طرح یورپ، یورو ایشیا اور ابھرتے ہوئے خطرات کیلئے قائم ایوان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ اور رکن کانگرنس ڈینا روہرا بیکر نے بھی مشترکہ قرارداد پیش کی۔ روہرا بیکر دو معاملات سامنے لائے، ان میں ایک بلوچستان جبکہ دوسرا ڈاکٹر شکیل آفریدی کے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان امریکا سے ہتھیار لے کر اپنے ہی شہریوں بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کیا اور انہیں جیل میں قید رکھا ہوا ہے، یہ گرفتاری امریکا کی جانب دشمنی پر مبنی رویے کا اظہار ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ امریکا پاکستان کو فوجی ساز و سامان نہ دے۔ اسی دوران خارجہ امور کمیٹی کے با اثر رکن کانگریس ایلیٹ اینجل نے وزیر خارجہ جان کیری سے پاکستان کو طیارے فروخت کرنے کے اس معاہدے پر سوالات کیے ہیں۔ سینیٹر جان کیری کمیٹی میں سالانہ بجٹ تجاویز کے حوالے سے بیان دے رہے تھے۔ ایلیٹ اینجل نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان دہرا کھیل کھیل رہا ہے کیونکہ اپنے ملک میں وہ دہشت گردی کیخلاف کارروائی کر رہا ہے جبکہ بھارت اور افغانستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے کیونکہ اس کی نظر میں یہ پاکستان کے قومی مفادات کا حصہ ہے۔ پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے اس صورتحال پرفوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدہ پرسکون انداز سے طے پا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے طیاروں کی فروخت کی وجوہات بیان کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے عوامی سطح پر جاری کیے گئے بیان میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی تکمیل سے باہمی تعاون کے متفقہ ڈھانچے کے تحت پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…