جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حکومت کو اچانک نیب کی خامیاں نظر آنے کیوں لگ گئی ہیں؟

datetime 24  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اپنے ٹی وی پروگرام ’’کل تک‘‘ میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ عوام جس محکمے میں اصلاحات چاہتے ہیں دعا کریں کہ وہ محکمہ میاں نواز شریف اور ان کے دوستوں کو اسی طرح تنگ کرے جس طرح نیب کر رہا ہے جس کے بعد اس محکمے میں اصلاحات ہو جائیں گی۔اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار کے حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ چوہدری نثار نے کہا کہ چند بڑے بزنس مین ایک سے زیادہ وزیراعظم نواز شریف کے پاس

آئےاور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ نیب انہیں خوفزدہ کر رہی ہے اور ان سے ناانصافی کی جا رہی ہے اور ایک بزنس مین نے میری موجودگی میں اپنی کہانی میرے سامنے پیش کی اور جس انداز سے کہانی پیش کی گئی اس سے تو یہی لگ رہا تھا بہت بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔اس تناظر میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ہمیں پاکستانی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو خوفزدہ نہیں کرنا ہے۔ جاوید چوہدری نے بتایا کہ نیب 1999ء سے کام کر رہا ہے اس نے سترہ برسوں میں ایماندار اور معصوم لوگوں کیخلاف دو لاکھ اسی ہزار شکایتیں سنیں لیکن کسی کو بھی نیب میں نہ تو قباحتیں نظر آئیں اور نہ ہی اصلاحات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ لیکن جب نیب نے وزیراعظم کے قریبی بزنس مین چنددوستوں کو بلایا یا حکومت کے نوٹس میں یہ بات آئی کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پچاس عہدیداروں ، فیملی ممبرز ، وزراء ، ایم این ایز اور ایم پی اے حضرات کیخلاف انکوائری کر رہا ہے تو حکومت کو فوراً محسوس ہوا کہ نیب ایماندار اور معصوم لوگوں کو تنگ کر رہا ہے اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا نیب کو اپنا کام ذمہ داری سے کرنا چاہئے وہ معصوم لوگوں کے گھروں اور دفتروں میں جان بوجھ کر گھس جاتے ہیں اور انہیں تنگ کرتے ہیں۔ اس موقع پرجاوید چوہدری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب تک سسٹم کی آنچ ، جب تک قباحتوں کی تکلیف حکمران طبقے تک نہیں پہنچتی اس وقت حکومت کو کسی محکمے میں قباحت نظر نہیں آتی اور نہ ہی اصلاحات کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے حکومتوں کو محکمہ پولیس ، محکمہ مال ، محکمہ صحت، جیلوں کے نظام ، انصاف کے سسٹم اور پینے کے صاف پانی میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی کیونکہ یہ محکمے انہیں تکلیف نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے محکموں میں اس وقت تک اصلاحات نہیں ہوں گی جب تک وہ سارے محکمے جن کی قباحتوں نے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے وہ نیب کی طرح حکمرانوں کے دل میں نہیں چبھتے۔ عوام جس محکمے میں اصلاحات چاہتے ہیں دعا کریں کہ وہ محکمہ میاں نواز شریف اور ان کے دوستوں کو اسی طرح تنگ کرے جس طرح نیب کر رہا ہے جس کے بعد اس محکمے میں اصلاحات ہو جائیں گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…