بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب حکومت نے پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن ) (ترمیمی ) آرڈیننس نافذ کر دیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور ( نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن ) (ترمیمی ) آرڈیننس 2015ءنافذ کیاہے جو فوری طو رپر نافذ العمل ہوگا ´۔آرڈیننس کے تحت ادارے کا انچارج رجسٹرنگ اتھارٹی سے اپنے ادارے کو رجسٹر کرائے گا،اگر ادارہ رجسٹرڈ نہیں ہے تو انچارج آرڈیننس کے آغاز کے 45دن کے اندر ادارے کی رجسٹریشن کے لئے درخواست دے گا اور رجسٹرنگ اتھارٹی درخواست موصول ہونے کی تاریخ سے60 دن کے اندر اس ضمن میں فیصلہ کرے گی ،تاہم ادارہ درخواست کے فیصلے تک کام جاری رکھے گا ۔آرڈیننس کے تحت کوئی ادارہ تعلیمی سال2015-16 کے دوران تعلیمی سال 2014-15 کے دوران موصول کردہ فیس سے زیادہ شرح کے مطابق فیس وصول نہیں کرے گا ۔اگر اگلے تعلیمی سال کے لئے فیس میں مناسب اضافے کا خاص جواز ہے تو انچارج آئندہ تعلیمی سال شروع ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل رجسٹرنگ اتھارٹی کو فیس میں مناسب اضافے کی تجویز بھجواسکتاہے ۔رجسٹرنگ اتھارٹی فیس کی زیادہ سے زیادہ رقم مقرر کرے گی جو کوئی ادارہ یا ادار وں کی کیٹگری طلباءسے وصول کریں گے ۔کوئی ادارہ طلباءسے فیس کے علاوہ کوئی دوسری رقم وصول نہیں کرے گا اور انچارج آرڈیننس کے اجراءکے سات دن کے اندرپہلے سے وصول کردہ اضافی فیس کو واپس کرے گا یا طالب علم کی جانب سے دی جانے والی فیس میں ایڈجسٹ کرے گا ۔داخلہ یا سکیورٹی فیس کسی طالب علم کی جانب سے دی گئی ایک ماہ کی ٹیوشن فیس سے زیادہ نہیں ہوگی ۔فیس میں داخلہ فیس ، ٹیوشن فیس ، سیکورٹی ، لیبارٹری فیس ،لائبریری فیس یا کوئی دیگر فیس یا ادارے کی جانب سے طلباءسے وصول کی گئی رقم شامل ہوگی۔ادارہ والدین کو کسی مخصوص دکان یا سپلائر سے درسی کتب، یونیفارم یا دیگر میٹریل خریدنے کے لئے پابند نہیں کرسکے گا ۔رجسٹرنگ اتھارٹی کے حتمی حکم سے متاثرہ اشخاص تیس دن کے اندر اندر ڈویژنل کمشنر کو اپیل کرسکتے ہیں اور کمشنر تیس دن کے اندر فیصلہ کرے گا اور کمشنر کا فیصلہ حتمی ہوگا ۔اگر کوئی انچارج آرڈیننس کی دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے تورجسٹرنگ اتھارٹی مناسب دفاع کا موقع فراہم کرنے کے بعد نوٹس کی تاریخ سے ادارے کو 20 ہزار روپے تک یومیہ جرمانہ کر سکتی ہے۔اگر خلاف ورزی تیس دن سے زیادہ دیر تک جاری رہتی ہے تو رجسٹرنگ ارتھارٹی آرڈیننس کے تحت دوسری کارروائی یا سزا کے علاوہ درجہ اول مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت کروائے گی اور عدالت انچارج کو سزا کے ساتھ 20 لاکھ روپے تک جرمانہ کرسکتی ہے لیکن دولاکھ روپے سے کم نہیں ہوگا ۔اگر انچارج آرڈیننس کے تحت رجسٹریشن کے بغیر ادارہ چلاتا ہے تو اس کو 40 لاکھ روپے تک سزا ہوسکتی ہے لیکن تین لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگی ۔رجسٹرنگ اتھارٹی انچارج کو سنے بغیر سزا یا جرمانہ نہیں کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…