بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بڈھ بیر فوجی اڈے پرحملے کے بعد مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری

datetime 19  ستمبر‬‮  2015 |

پاکستان کی طرف سے پہلے بھی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ اور کئی دیگر دہشت گرد کمانڈر اپنے جنگجوو¿ں کے ساتھ سرحد پار افغانستان میں روپوش ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد بھی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے کابل کا دورہ کیا تھا اور افغان حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں ہی کی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کابل میں ہونے والے حملوں کے بعد افغان حکومت کی طرف سے پاکستان پر یہ کہہ کر تنقید کی گئی تھی کہ دہشت دوں کی پناہ گاہیں اب یہاں موجود ہیں جہاں سے افغان سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔رواں سال مئی میں پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ اور افغانستان کے خفیہ ادارے ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی‘ کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے گئے۔اس یاداشت پر دستخط کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک کے انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں سے متعلق خفیہ معلومات کے تبادلے کے علاوہ اپنی اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے خلاف مربوط کارروائیوں کے لیے بھی تعاون کریں گے۔ لیکن عملی طور پر اس بارے میں کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…