بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کا کسان پیکیج پی ٹی آئی کے کنونشن کا ردعمل ہے

datetime 18  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے کسان پیکیج کا اعلان دراصل پی ٹی آئی کی جانب سے کسان کنونشن کا ردعمل ہے،ملک بھر کے کسانوں کے جو اصل مسائل ہیں ان کو کبھی نہ ماضی میں بتایا گیا اور نہ ہی اب موجودہ حکومت میں سامنے لایا گیا ہے،این اے 122میں اصل لڑائی پی ٹی آئی اورمسلم لیگ ن کے درمیان ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی تو کسی گنتی میں ہی نہیں۔ہمارے ووٹر ابھی اس قابل نہیں کہ وہ پالیسی ایشوز پر ووٹ دیں ،فنڈزملنے کے باوجودخیبرپختونخوا میں ڈیم نہ بننے سے پی ٹی آئی کو نقصان ہوسکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف تجزیہ کاروں اور صحافیوں شہزاد چوہدری ، امتیاز عالم ، بابر ستار ، مظہر عباس اور سلیم صافی نے کسان پیکج کے اعلان اور اس کے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینئر تجزیہ کار شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت دو تین محاذوں پر ہے اور اس نے اپنے ڈھائی سالہ دور میں کوئی ایگریکلچر پالیسی بنائی ہی نہیں ۔ غریب کسان کو جن مسائل کا سامنا ہے یہ کمزوریاں ہیں اس نظام کی جو بغیر کسی پالیسی کے چل رہا ہوتا ہے ، انہوں نے 341ارب کے پیکج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بجٹ پیش ہوتا ہے تو اسمبلی سے پاس بھی ہوتا ہے اس لے یہ 371 کا کوئی بجٹ نہ تھا، یہ درمیان میں کہاں سے آگئے انہوں نے اسلام آباد ، لاہور میں میٹرو بس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بجٹ کہاں سے آیا کیونکہ قومی اسمبلی نے ایسا کوئی بجٹ مختص نہیں کیا تھا ۔ پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات تو پہلے ہی پنجاب کی حد تک مسلم لیگ ن کے حق میں تھے یہ تو ری ایکشن ہے ،پی ٹی آئی کے اس کنونشن کا جو عمران خان نے کیا جس کے جواب میں ن لیگ کو ئی اقدام کرنا پڑا ۔ تجزیہ کار بابر ستار نے ری ایکشن ہے یہ پی ٹی آئی کنونشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا اکثر میاں صاحب کے کام تحریک انصاف کے بیانات کا ری ایکشن ہی ہوتے ہیں ، انہوں نے احتساب کی بات کی میاں صاحب نے احتساب کمیشن بنانے شروع کردیئے ، بابر ستار نے کہا بالکل یہ بلدیاتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے کیونکہ اس کا ثبوت وقت کا انتخاب ہے کیونکہ ایسی چیزیں لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اگر اس میں کسان کا فائدہ ہورہا ہے تو یہ بڑی اچھی بات ہے بھلے وہ عمران خان کے پریشر میں آکر کیا جارہا ہو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…