منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

این جی اوز کی مشکوک سرگرمیاں ،حکومت نے ریگولیشن اور قانون سازی کا فیصلہ کر لیا

datetime 16  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے مشکوک سرگرمیاں منظر عام پر آنے کے بعد غیر ملکی خیراتی اداروں اور این جی اوز کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی این جی اوز سیو دی چلڈرن کو بند کرنے اور اسے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ابھی تک خدشات اور ابہام موجود ہے ۔ رپورٹس میں اعلی حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سیو دی چلڈرن آفس کو بند کرنے کے بعد حکومت نے عالمی ڈونر کو یقین دہانی کروائی تھی کہ صورت حال آنے والے دنوں میں آسان ہو جائے گی اور اس تنظیم کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل جائے گی ۔ وزیر داخلہ چودھری نثار کا کہنا ہے کہ حکومت آئی این جی اوز کے لئے ریگولیشنز کا جائزہ لے رہی ہے اور جو ان گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی میں ملوث نکلیں ۔ پی ایم میڈیا سیل سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے مشیر طارق فاطمی کی زیر قیادت ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو پاکستان میں این جی اوز کی ورکنگ کو دیکھے گی اور ان کے حوالے سے قوانین کا جائزہ لے گی ۔ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان رابطوں سے این جی او سیو دی چلڈرن کے دفتر کو بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اس حوالے سے کردار ادا کیا اس کے علاوہ امریکی امدادی ادارے پھر ایس ایڈ اور برطانوی ادارے ڈی ای ایف آئی ڈی نے بھی اپنی متعلقہ حکومتوں کے ذریعے اپان اثر رسوخ استعمال کیا ۔

مزید پڑھئے:ستمبر میں دنیا تباہ ہوجائے گی

دریں اثناء حکومت نے سیو دی چلڈرن ادارے کو اپنا کام گھروں سے شروع کی ہدایت کی ہے ۔ادھر سیو دی چلڈرن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو پہلا ا ور نہ ہی دوسرا نوٹیفیکیشن ملا ہے اور اس کے دفاتر ابھی بھی بند اور پولسی کے نگرانی میں ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…