اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر پر میزائل حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔الجزیرہ کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا ہے، جن میں کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور سعودی عرب شامل ہیں۔ بحرینی وزارت داخلہ نے شہریوں سے محفوظ مقامات پر رہنے اور مرکزی شاہراہوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔کویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور سائرن بجائے گئے، جبکہ ابوظبی میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی ایک دھماکے کی اطلاع ہے۔ قطر کے شہر دوحہ میں بھی دو مزید دھماکے ہوئے، تاہم قطری وزارت دفاع نے بتایا کہ ان میزائلوں کو قبل از وقت مار گرایا گیا اور ملک میں سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ اردن کی فوج نے بھی دو بیلسٹک میزائل اپنے فضائی دفاع کے نظام سے تباہ کیے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ میزائل کس نے داغے تھے۔قطری وزارت دفاع نے مزید کہا کہ فضائی حدود سے گزرنے والے ایرانی میزائل کو دفاعی نظام نے ناکارہ بنایا، اور برطانوی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
دریں اثنا ایران نے اسرائیل پر بھی جوابی میزائل داغے، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور حیفہ سمیت دیگر شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی سینئر عہدیدار نے خبردار کیا کہ خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اہداف ایران کے لیے کھلے ہیں اور جواب عوامی ہوگا، کوئی سرخ لکیر نہیں ہوگی، جبکہ یہ جنگ دیرپا اور وسیع اثرات مرتب کرے گی۔متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں، اور ایران کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ مذاکرات کے دوران کیا گیا اور دشمن کی جارحیت کا نتیجہ ہے۔



















































