بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی

datetime 30  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے کی تاہم اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق فیض حمید کو 11 دسمبر کو فوجی عدالت نے رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسروں کو نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی۔پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 133 بی کے تحت سزا اور فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کیلئے 40 دن کی مہلت حاصل تھی۔

اپیل پہلے ایک کورٹ آف اپیلز میں سنی جاتی ہے جس کی سربراہی میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کا افسر کرتا ہے، جسے آرمی چیف نامزد کرتے ہیں۔ بعد ازاں آرمی چیف کو سزا کی توثیق، ترمیم یا منسوخی کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔رواں ماہ 11 دسمبر 2025 کو سزا سناتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بیان میں کہا تھا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع کی گئی، جو 15 ماہ سے زائد عرصے پر محیط رہی۔ طویل قانونی کارروائی کے بعد ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دے کر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق سزا یافتہ افسر کی سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے میں مبینہ شمولیت اور بعض دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں انہیں فیض حمید سابق لیفٹیننٹ جنرل کہا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید ان کا فوجی رینک واپس لے لیا گیا ہے تاہم آئی ایس پی آر نے اس بارے میں واضح طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔فیض حمید نومبر 2022 میں ریٹائر ہوئے تھے اور وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور دوسرے تین ستارہ جنرل ہیں جنہیں مکمل فوجی ٹرائل کے بعد قید کی سزا سنائی گئی۔یہ کیس پراپرٹی ڈویلپر کنور معز خان کے الزامات سے شروع ہوا، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2017 میں اس وقت کے میجر جنرل فیض حمید اور دو دیگر افسران نے ان کے گھر اور دفاتر پر چھاپہ مارا، قیمتی سامان ضبط کیا اور 4 کروڑ روپے کی ادائیگی اور ایک نجی ٹی وی چینل کی مالی معاونت پر مجبور کیا۔ یہ معاملہ 2023 میں دوبارہ سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو وزارتِ دفاع کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کا مشورہ دیا، جس کے بعد باضابطہ فوجی انکوائری شروع ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…