پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

بند کرو اسے، بند کرو، وسیم بادامی کے شو کے دوران کسی نے زبردستی احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی

datetime 26  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)براہِ راست ٹی وی پروگرام کے دوران ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا جب نامعلوم شخص نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال اچانک منقطع کروا دی۔ یہ واقعہ اے آر وائی نیوز پر اینکر وسیم بادامی کے لائیو شو کے دوران سامنے آیا۔احسن اقبال پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے اور ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے۔ تقریباً 11 بج کر 16 منٹ پر اچانک ایک شخص ان کے پاس آیا، جسے احسن اقبال نے بات کرتے ہوئے اوپر دیکھ کر محسوس کیا۔

اسی لمحے ایک آواز سنائی دی کہ “بند کرو، بند کرو اسے”، جس کے فوراً بعد اس شخص نے موبائل فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ احسن اقبال نے گھبراہٹ میں فون اٹھایا اور ویڈیو کال ختم ہو گئی۔اس غیر معمولی صورتحال پر وسیم بادامی بھی حیران نظر آئے اور انہوں نے فوری طور پر سوال اٹھایا کہ آیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے یا کہیں اور سے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی کہ معاملے کی جانچ کی جائے، جس کے بعد پروگرام کو وقفے پر لے جایا گیا۔تقریباً سات منٹ بعد نشریات دوبارہ شروع ہوئیں، تاہم اس وقت احسن اقبال کا ذکر نہیں کیا گیا اور پروگرام کے مہمان بھی تبدیل ہو چکے تھے۔ شو میں اب پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی، صحافی اطہر کاظمی اور عامر الیاس رانا شریک تھے۔

بعد ازاں 11 بج کر 46 منٹ پر احسن اقبال دوبارہ پروگرام میں شامل ہوئے۔ وسیم بادامی کے استفسار پر انہوں نے مختصراً کہا کہ “ذرا کوئی مسئلہ ہو گیا تھا، اب سب ٹھیک ہے”، تاہم بات مکمل طور پر واضح نہ ہو سکی۔ اینکر نے مزید تفصیلات طلب کرنے سے گریز کیا۔یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ 11:16 سے 11:46 تک کے وقفے میں احسن اقبال کے ساتھ کیا پیش آیا، براہِ راست نشریات میں مداخلت کس نے کی اور اس واقعے کی اصل وجوہات کیا تھیں۔



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…