جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی جارحیت کیخلاف پاک بحریہ نے لڑاکا جہاز پانیوں میں اُتار دیے

datetime 10  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)دشمن کے مزموم ارادے بھانپتے ہوئے پاکستان نیوی نے اپنے لڑاکا جہاز پانیوں میں اُتار کر انہیں مخصوص مقامات پرپہنچا دیا۔ پاک بحریہ نے کہاکہ وہ کسی بھی مس ایڈوانچر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔پاکستان نیوی نے کہا کہ بھارتی ائیرکرافٹ کیرئیر اور جہازوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔

جارحیت پر اُتری بھارتی بحریہ کی جانب سے جہازوں کی تعیناتی قابل فہم ہے مگر بھارت کی موجودہ صلاحیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کا کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا۔اس کے برعکس بھارتی بحریہ کے اثاثے پاکستان کے لیے ایک پُرکشش ہدف ثابت ہوں گے۔برطانوی اخبار کی جانب سے بھارتی بیڑے کی پیش قدمی پر ردعمل میں پاک بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ اُس ناکام بھارتی پراپیگنڈے کا تسلسل ہے جس میں گزشتہ شب مضحکہ خیز دعویٰ کیا گیا تھا کہ کراچی کی بندرگاہ پرحملہ کردیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ میزائلوں کی جس رینج کا دعوی کیا گیا ہے وہ بھی گمراہ کن ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نیوی نے دشمن کے کسی بھی مس ایڈونچر کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔

پاکستان بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی نیوی اگر پاکستان کی جانب میلی نگاہ سے بڑھے گی تواسے بحیرہ عرب میں غرق کردیا جائیگا۔اس سے پہلے برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے سپر سانک کروز میزائل سے لیس اپنے جنگی جہاز پاکستان کی جانب روانہ کردیے ہیں تاکہ کراچی کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا جائے۔دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے طیارہ بردار جہاز، ڈیسٹرائیرز، فریگیٹس اور اینٹی آبدوز جہاز روانہ کیے گئے ہیں جو کہ پاکستانی ساحل سے تقریب تین سو سے چار سو ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہیں۔

ان میں سے بعض روس کے بنائے گئے براہموس میزائل سے لیس ہیں۔پاک بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ جس طرح پاک فضائیہ نے دشمن کو چاروں شانے چت کیا ہے اور وہ اپنے طیاروں کا ملبہ اپنے میڈیا کو دکھانے سے گریز کررہا ہے۔ افواج پاکستان کا دوسرا ونگ پاک بحریہ بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ پر سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی بحریہ کا کو کوئی بھی جہاز ابھی اس قدر قریب نہیں کہ پاکستان کو نشانہ بناسکے، تمام شہر اور شپنگ لین محفوظ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…