بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

خونریزی سے بچنے کے لیے افغانستان چھوڑا،سبکدوش افغان صدر اشرف غنی

datetime 16  اگست‬‮  2021 |

کابل(این این آئی)افغانستان کے سبکدوش صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان تلوار اور بندوق کی جنگ میں فاتح ٹھہرے ہیں، میں نے دارالحکومت کابل میں خونریزی سے بچنے کے لیے افغانستان چھوڑا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انھوں نے کابل سے ایک پروازکے ذریعے

پڑوسی ملک تاجکستان پہنچنے کے بعد اپنے فیس بک صفحے پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا ۔اس میں انھوں نے صدارتی محل چھوڑنے کا جواز پیش کیا اورطالبان سے کہا کہ اب وہ افغانستان کے تمام لوگوں، قوموں، مختلف شعبوں، بہنوں اور خواتین کو یقین دہانی کرائیں،انھیں عزت دیں اور عوام کے سامنے ایک لائحہ عمل پیش کریں۔انہوں نے کہاکہ اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اوررحیم ہے۔آج مجھے ایک مشکل انتخاب کا سامنا تھا:مجھے ان مسلح طالبان کا سامنا کرنا چاہیے جو محل میں داخل ہونا چاہتے تھے یا اس وطن عزیز کو چھوڑدینا چاہیے جس کا مجھے تحفظ کرنا ہے اور ساتھ گذشتہ بیس سال کا بھی تحفظ کرنا چاہیے۔اگراب بھی لاتعداد ہم وطن شہید ہوتے اور انھیں کابل شہر کی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا تو اس کے نتیجے میں ساٹھ لاکھ کی آبادی کے شہر میں ایک بڑی انسانی تباہی رونما ہوتی۔طالبان نے مجھے ہٹانے کے لیے یہ کام کیا ہے، وہ یہاں تمام کابل اور کابل کے عوام پر حملہ کرنے آئے ہیں۔خون ریزی سے بچنے کے لیے، میں نے سوچا کہ (ملک سے)باہر چلے جانا ہی بہتر راستہ ہے۔انھوں نے اعتراف کیا کہ طالبان نے تلوار اور بندوقوں کا فیصلہ جیت لیا ہے اور اب وہ اہلِ وطن کی عزت، دولت اور عزتِ نفس کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ کیا انھوں نے دلوں کی قانونی حیثیت حاصل نہیں کی؟ تاریخ میں کبھی محض خشک طاقت نے کسی کو قانونی حیثیت نہیں دی اور وہ انھیں نہیں دے گی۔ اب انھیں ایک نئے تاریخی امتحان کا سامنا ہے؛ یا تو وہ افغانستان کے نام اورعزت کی حفاظت کریں گے یا وہ دیگر مقامات اور نیٹ ورکس کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے کہاکہ بہت سے لوگ اور بہت سے اقشار اب خوف میں مبتلا ہیں اورانھیں مستقبل کے بارے میں کوئی بھروسا نہیں۔ طالبان کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان کے تمام لوگوں، قوموں، مختلف شعبوں، بہنوں اور خواتین کو یقین دہانی کرائیں۔ وہ عوام کی قانونی حمایت حاصل کریں اور ان کیدل جیتیں۔وہ ایک واضح منصوبہ(لائحہ عمل) وضع کریں اور عوام کے ساتھ اس کا تبادلہ کریں۔ میں ہمیشہ اپنی قوم کی دانشوری اور ترقی کے منصوبے کے ساتھ خدمت کرتا رہوں گا۔ مستقبل کے لیے بہت سی مزید باتیں۔افغانستان زندہ باد۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…