بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں لاک ڈائون کا عندیہ دیدیا

datetime 4  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر مکمل لاک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خدانخواستہ ملک میں کورونا سے حالات زیادہ خراب ہوئے تو ہم لاک ڈاؤن پر مجبور ہو جائیں گے۔اتوار کو ٹیلیفون پر عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کرونا کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے، جیسے کرونا کی لہر یورپ اور امریکا مین آئی،

پاکستان اللہ کے شکر سے ابھی تک محفوظ ہے، ورنہ مشکلات بڑھ جاتیں، ہمیں اللہ کا شکر اداکرنا چاہیے جس نے ہمیں مشکل وقت سے بچایا، اللہ نے پاکستان پر خاص کرم کیا اور ہمیں اس وبا سے بچایا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یورپ میں ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاؤن کردیاگیا ہے، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوروناکی تیسری لہر کب تک چلے گی، لوگوں سے کہتا ہوں کہ جہاں بھی جائیں ماسک ضرور پہنیں، دنیا جان چکی ہے کہ ماسک سے ہی سب سے زیادہ فائدہ ہے۔وزیراعظم نے ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کئے بغیر اپنے لوگوں کو بچارہیہیں، لاک ڈاؤن لگاتے تو سب سے زیادہ غریب متاثر ہوتے ، ہم صرف تھوڑی پابندی لگا رہیہیں تاکہ اس وبا سے بچا جائے، کرونا کے باعث دنیا میں 15کروڑ لوگ ایک سال میں غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، اپنے لوگوں کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔وزیراعظم نے ساتھ ہی کہا کہ خدا نخواستہ کرونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن پر مجبور ہونگے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…