جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کی شرائط پر منی بجٹ لانے کی تیاریاں

datetime 21  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے 3آرڈیننس کے ذریعے منی بجٹ لانے کی تیاریاں کرلیں۔جیو نیوز کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پرعمل درآمد کیلئے تینوں آرڈیننس آج جاری ہونے کا امکان ہے۔متوقع آرڈیننس اسٹیٹ بینک کی خود مختاری، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بجلی کی قیمتوں کو اضافے سے متعلق خود مختاری دینے اور

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 140ارب روپے کا استثنیٰ ختم کرنے سے متعلق ہیں۔آئی ایم ایف کی25 مارچ سے پہلےآرڈیننس جاری کرنے یا پارلیمنٹ سے قانون سازی کی ڈیڈ لائن ہے جبکہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو ڈائریکٹرزبورڈ نے 500ملین ڈالر قرض کی قسط کی منظوری قانون سازی سے مشروط کی ہے۔دوسری جانب وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کیلئے صدارتی آرڈیننس لانے کی منظوری دے دی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمت میں یہ فوری اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا جارہا ہے جس کا مقصد بجلی صارفین سے اکتوبر تک 884 ارب روپے اضافی رونیو اکٹھا کرنا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق 5.65 روپے فی یونٹ اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جس کی وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت حکومت کو بجلی پر ریونیو بڑھانے کے لیے مزید 10 فیصد سرچارج لگانے کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا اور وہ بجلی کی قیمت میں 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ کرسکے گی۔اس کا مقصد سرکولر ڈیٹ پروگرام پر عمل درآمد کرنا ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔ کابینہ کی طرف سے ان آرڈیننس کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ٹیریسیا دابا نے پاکستان زندہ باد کا ٹوئٹ کیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف قرضے کی تمام شرائط پوری کرچکا ہے اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کے لیے قرضے کے قسط کی منظوری کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمت میں 5.65 روپے یونٹ اضافے کا مقصد بلز میں سے ٹیکس نکال کر 36 فیصد اضافہ ہے۔سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق اپریل 2021 سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جو جون 2023 تک جاری رہے گا۔بجلی کی قیمت میں دو بار اضافہ سالانہ ٹیرف ایڈجسمنٹ اور 4 سہ ماہی ایڈجسمنٹس کے تحت کیا جائے گا۔ اس کے بعد 10 فیصد سرچارج شامل ہونے سے قیمت 7 روپے فی یونٹ بڑھ جائے گی جس کا صارفین پر 934 ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا۔ حکومت سالانہ ٹیرف کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.95 روپے یونٹ کا اضافہ گزشتہ ماہ ہی کرچکی ہے۔ اضافی قیمت شامل کرنے سے بجلی کی قیمت میں مجموعی اضافہ 8.95 روپے فی یونٹ ہوجائے گا اور اس مد میں صارفین سے 1.134 ٹریلین روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…