جو وزیراعظم تکبر سے بات کرتا تھا آج ہر رکن سے بھیک مانگ رہا ہے

  جمعہ‬‮ 5 مارچ‬‮ 2021  |  10:45

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو وزیر اعظم تکبر سے بات کرتا تھا آج ہر رکن سے بھیک مانگ رہا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جس سیاسی خرابی کا ذکر پہلے بند کمروں میں ہوتا تھا اب ٹی وی پر ہوتا ہے۔ سیاست میں مداخلت کو بند کرنا ہوگا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انہیںعلم نہیں کہ وزیراعظم صرف ایک بار ہی اعتماد کا ووٹ لیتا ہے۔رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اگر اقتدار ہوگا تو عوام کی مرضی سے ہی ہوگا۔انہوں


نے کہا کہ ہمیں نواز شریف نے شرافت کی سیاست کا درس دیا، حق بات کرنے کی بھی تلقین کی، خرابیوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور اپنا حق چھیننا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 26 مارچ کو لانگ مارچ ہے، اپنی کار میں اکیلے آنے کی بجائی500 افراد لائیں۔دوسری جانب سینیٹ کا انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد تمام نظریں ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے اہم دفاتر کیلئے ہونے والے انتخابات پر مرکوز ہوگئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات میں اپ سیٹ کے بعد اپوزیشن جماعتیں ایوان بالا میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور اب وہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے اعلیٰ عہدے حاصل کرنے کیلئے پرامید ہیں جس پر 12 مارچ کو خفیہ رائے دہی کے ذریعے انتخابات ہوں گے۔سینٹ کی 48 نشست پر ہونے والے انتخابات کے بعد توقع کے مطابق ایک معلق سینیٹسامنے آیا جہاں 100 اراکین پر مشتمل نئے سینیٹ میں اپوزیشن کے 53 اور حکمران اتحاد کے 47 اراکین ہوگئے ،اگرچہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے ان دونوں عہدوں کے لیے اپنے اْمیدواروں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تاہم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاولبھٹو زرداری سمیت کئی رہنما یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینٹ کے لیے مشترکہ اْمیدوار ہوں گے۔ادھر ایک اپوزیشن رہنما نے یوسف رضا گیلانی کی حکومتی حمایت یافتہ امیدوار کے خلاف فتح کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ چیئرمین سینیٹصادق سنجرانی کو راتوں کو نیند نہیں آنی چاہیے۔سینیٹ کے 2 اعلیٰ عہدوں کیلئے ناموں کو حتمی شکل دینے کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں نے اب تک سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ بھی نہیں کیا کیونکہ موجودہ اپوزیشن لیڈر راجا ظفر الحق ان 52 سینیٹرز میں شامل ہیں جو ریٹائرہورہے ہیں جبکہ انہوں نے اس مرتبہ الیکشن میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔مزید یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اب سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت نہیں رہی لہٰذا اگر تکنیکی بنیادوں پر بات کریں تو وہ اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن پر دعویٰ نہیں کرسکتی تاہم ذرائع کے مطابق اگر پی ڈی ایم نےیوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے اْمیدوار نامزد کرتی ہے تو پی ڈی ایم کی دو اہم جماعتیں مسلم لیگ (ن) یا جمعیت علمائے اسلام (ف) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنے امیدوار کی نامزدگی کا مطالبہ کرسکتی ہیں،ان عہدوں کے لیے اْمیدوار کو حتمی شکلدینے اور ان عہدوں کو حاصل کرنا اب پی ڈی ایم کے لیے اصل امتحان ہوگا اور وہ اپنے اتحاد کو ضرور برقرار رکھے گی۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے لیے انتخابات کا نتیجہ پاکستان تحریک انصاف کے اْمیدواروں کے انتخابپر بھی انحصار کرتا ہے اس حوالے سے پی ٹی آئی میں شامل ذرائع کا کہنا تھا کہ پارٹی کے کئی اراکین صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ نہیں دیکھنا چاہتے اور وہ چاہتے ہیں کہ قیادت اس اہم نشست کے لیے اصل پارٹی کارکن کو نامزد کرے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرپی ٹی آئی صادق سنجرانی کی نامزدگی پر بضد رہتی ہے تو اسے اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو اسے اسلام آباد کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں عبدالحفیظ شیخ کو نامزد کرنے کے بعد الیکشن میں دیکھنا پڑی۔ادھر ان کا ماننا ہے کہ اگر پی ٹی آئی سنجرانی کیحمایت نہیں کرتی تو یہ عمل بلوچستان عوامی پارٹی کو ناراض کرسکتا ہے جو اب سینیٹ میں چوتھی بڑی جماعت ہے جبکہ حکمران اتحاد میں پی ٹی آئی کے بعد دوسری بڑی جماعت ہے۔علاوہ ازیں توقع کے مطابق پی ٹی آئی ایوان بالا میں اکیلی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تاہم وہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے گی اور اسے معمولی سی قانون سازی کے لیے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎