جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

کے ٹو پر سب سے بڑے سرچ آپریشن کی تیاری محمد علی سدپارہ کے آخری مقام کی نشاندہی کر لی گئی

datetime 12  فروری‬‮  2021 |

اسکردو (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن ) سیٹلائٹ تصاویر سے علی سدپارہ اورجان اسنوری کےآخری مقام کی نشاندہی ہوگئی ، جس کے بعد کے ٹو پر آج سب سے بڑا سرچ ریسکیوآپریشن کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق محمد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش کیلئے کے ٹو پر سب سے بڑا سرچ ریسکیوآپریشن آج ہورہاہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئس لینڈاورچلی نےسیٹلائٹ تصاویرجاری کردیں،

تصاویرمیں علی سدپارہ اورجان اسنوری کےآخری مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔دوسری جانبلاپتہ کوہ پیماں محمد علی سد پارہ، کان سنوری اور جان پابلو مہر کو تلاش کرنے کی کوشش سکردو کا موسم معمولی سا بہتر ہونے پر بحال ہونے کی امید ہے۔ سرچ آپریشن میں سی 130 طیارے کے ذریعے سد پارہ گاں سے تعلق رکھنے والے 4 بلندی پر چڑھنے والے قلیوں کے علاوہ خصوصی فارورڈ لکِنگ انفراریڈ (ایف ایل آئی آر) کا استعمال کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تلاش کے دوران ایف ایل آئی آر استعمال کیا جائے گا، اگر ایف ایل آئی آر مشن کے دوران کسی جگہ کی نشاندہی ہوتی ہے تو بلندی پر چڑھنے والے کوہ پیماں کو گرانڈ پر تلاشی کیلئے مشن میں شامل کیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ہیرو محمد علی سد پارہ اور آئس لینڈ کے جان اسنوری اور جے پی مہر پر مشتمل ان کی بہادر ٹیم کو تلاش کرنے کیلئے تمام کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔خیال رہے کہ ایف ایل آئی آر کیمروں میں موجود سینسرز انفراریڈ ریڈی ایشن کا پتہ چلا کر اسے تصویر میں بدل سکتے ہیں۔الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے کہا کہ ان کے 4 پہاڑی قلی صادق سد پارہ، علی محمد سد پارہ، علی رضا سد پارہ اور دلاور سدپارہ اسکردو میں ہیں اور وہ سرچ مشن کا حصہ ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ صادق اور علی محمد دونوں کو 8 ہزار میٹر بلند پہاڑوں پر چڑھنے کا تجربہ ہے اور وہ اس موسم کے عادی ہوگئے ہیں جو ضرورت پڑنے پر بیس کیمپ سے اوپر چلے جائیں گے۔دوسری جانب تینوں لاپتہ کوہ پیماں کے اہلخانہ نے مشترکہ بیان میں ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ چار روزہ مسلسل فضائی تلاش میں کچھ پتہ نہ چل سکا۔ منجمد حرارت، تیز ہوا اور دھند کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں کامیابی نہ مل سکی۔مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا کہ کہ لاپتہ کوہ پیماں کی تلاش کے لیے پس پردہ بہت کام ہو رہا ہے۔سرچ ٹیم آئس لینڈ اسپیس ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔جدید نظام کے ذریعے پہاڑ کی بلندی پر ایک ایک انچ کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ اعلامیہ میں یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن پے کہ کوہ پیماں نے برف کی غار بنائی ہو اور اس کے اندر پناہ لی ہو۔ برفانی غار میں کھانے کی چیزیں پانی گرم کرنے کی سہولت ہو تو زندہ رہا جا سکتا ہے۔اعلامیے میں تینوں خاندانوں نے آرمی چیف، عسکری ادارہ تعلقات عامہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان قوم کے مشکور ہیں جنہوں نے علی سدپارہ کے لے دعائیں کیں۔تینوں خاندان پوری دنیا کے ماونٹیرز کمیونٹی کے بھی مشکور ہیں



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…