بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی سائنسدانوں کی کرونا کے کیخلاف اب تک کی بڑی کامیابی علاج میں مددگار ممکنہ ادویات کی شناخت کرلی ، شاندار تفصیلات جاری

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستانی سائنسدانوں نے نئے نوول کورونا وائرس کے حوالے سے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس کے علاج میں مددگار ممکنہ ادویات کی شناخت کرلی ہے۔کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسین اینڈ ڈرگ ریسرچ کی اس تحقیق میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے امریکا کے ادارے فوڈ ایند ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی منظور کردہ 3 ادویات اور 2 قدرتی مرکبات کو اس کے علاج کیلئے اہم قرار دیا۔جریدے جرنل آف بائیو مولیکیولر اسٹرکچر اینڈ ڈائنامک میں

شائع تحقیق میں کہا گیا کہ فی الحال اس نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کا کوئی منظور شدہ علاج موجود نہیں اور اس کیلئے ایف ڈی اے کی منظور شدہ اینٹی وائرل ادویات کو کمپیوٹینشنل طریقہ کار کے ذریعے آزمایا گیا۔محققین نے ایف ڈی اے کی منظور کردہ 3 ادویات ریمیڈیسیور، اسکوائناویر اور ڈارنوویر کے ساتھ ساتھ 2 قدرتی مرکبات فلیون اور کویومارین ڈریوسٹیوز کو کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے اہم قرار دیا۔اسکوائناویر اور ڈارنوویر مختلف ناموں سے فروخت کی جانے والی ادویات ہیں جو ایچ آئی وی / ایڈز کے علاج اور روک تھام کیلئے استعمال کی جاتی ہیں مگر دیگر وائرسز کے لیے بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔فلیون ایسا قدرتی مرکب ہے جو سرخ۔ جامنی رنگ کے پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ مختلف نباتاتی اقسام میں پایا جاتا ہے جبکہ دوسرا مرکب عام طور پر وٹامن کے مسائل کی روک تھام کے لیے استعمال کرایا جاتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ایف ڈی اے کی منظور کردہ 16 ادویات اور کئی قدرتی مرکبات کا تجزیہ کیا گیا تھا۔محققین نے دیکھا کہ یہ ادویات کس طرح نئے نوول کورونا وائرس کے اسٹرکچر پر اثرانداز ہوتی ہیں اور خلیات کو ہدف بنانے والے پروٹین کو ہدف بناتی ہیں۔انہوں نے دریافت کیا کہ اوپر درج ادویات اور 2 قدرتی مالیکیولز وائرس کے خلیات کو متاثر کرنے کے عمل یا اپنی نقول بنانے کے عمل کو ہدف بناتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ تحقیق مریضوں پر نہیں ہوئی مگر محققین نے زور دیا کہ اس حوالے سے مزید کام کیا جانا چاہیے جس سے تیز رفتار بنیادوں پر نئے نوول کورونا وائرس کے علاج کی شناخت اور تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیق کو کرنے والی ٹیم میں سلمان علی خان، کومل ضیا، ساجدہ اشرف، ریاض الدین اور ظہیر الحق شامل تھے۔ تحقیق کو جریدے کے پاس یکم مارچ کو جمع کرایا گیا اور 30 اپریل کو اسے قبول کیا گیا، جس کے بعد اپریل کے وسط میں اسے شائع کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…