اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

پاکستانی سائنسدانوں کی کرونا کے کیخلاف اب تک کی بڑی کامیابی علاج میں مددگار ممکنہ ادویات کی شناخت کرلی ، شاندار تفصیلات جاری

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستانی سائنسدانوں نے نئے نوول کورونا وائرس کے حوالے سے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس کے علاج میں مددگار ممکنہ ادویات کی شناخت کرلی ہے۔کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسین اینڈ ڈرگ ریسرچ کی اس تحقیق میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے امریکا کے ادارے فوڈ ایند ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی منظور کردہ 3 ادویات اور 2 قدرتی مرکبات کو اس کے علاج کیلئے اہم قرار دیا۔جریدے جرنل آف بائیو مولیکیولر اسٹرکچر اینڈ ڈائنامک میں

شائع تحقیق میں کہا گیا کہ فی الحال اس نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کا کوئی منظور شدہ علاج موجود نہیں اور اس کیلئے ایف ڈی اے کی منظور شدہ اینٹی وائرل ادویات کو کمپیوٹینشنل طریقہ کار کے ذریعے آزمایا گیا۔محققین نے ایف ڈی اے کی منظور کردہ 3 ادویات ریمیڈیسیور، اسکوائناویر اور ڈارنوویر کے ساتھ ساتھ 2 قدرتی مرکبات فلیون اور کویومارین ڈریوسٹیوز کو کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے اہم قرار دیا۔اسکوائناویر اور ڈارنوویر مختلف ناموں سے فروخت کی جانے والی ادویات ہیں جو ایچ آئی وی / ایڈز کے علاج اور روک تھام کیلئے استعمال کی جاتی ہیں مگر دیگر وائرسز کے لیے بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔فلیون ایسا قدرتی مرکب ہے جو سرخ۔ جامنی رنگ کے پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ مختلف نباتاتی اقسام میں پایا جاتا ہے جبکہ دوسرا مرکب عام طور پر وٹامن کے مسائل کی روک تھام کے لیے استعمال کرایا جاتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ایف ڈی اے کی منظور کردہ 16 ادویات اور کئی قدرتی مرکبات کا تجزیہ کیا گیا تھا۔محققین نے دیکھا کہ یہ ادویات کس طرح نئے نوول کورونا وائرس کے اسٹرکچر پر اثرانداز ہوتی ہیں اور خلیات کو ہدف بنانے والے پروٹین کو ہدف بناتی ہیں۔انہوں نے دریافت کیا کہ اوپر درج ادویات اور 2 قدرتی مالیکیولز وائرس کے خلیات کو متاثر کرنے کے عمل یا اپنی نقول بنانے کے عمل کو ہدف بناتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ تحقیق مریضوں پر نہیں ہوئی مگر محققین نے زور دیا کہ اس حوالے سے مزید کام کیا جانا چاہیے جس سے تیز رفتار بنیادوں پر نئے نوول کورونا وائرس کے علاج کی شناخت اور تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیق کو کرنے والی ٹیم میں سلمان علی خان، کومل ضیا، ساجدہ اشرف، ریاض الدین اور ظہیر الحق شامل تھے۔ تحقیق کو جریدے کے پاس یکم مارچ کو جمع کرایا گیا اور 30 اپریل کو اسے قبول کیا گیا، جس کے بعد اپریل کے وسط میں اسے شائع کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…