بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

آپ لوگ سوٹ پہن کر دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں باہر نکلنے کو تیار نہیں، مفاد پرستی میں کراچی کا حشر کر دیا، چیف جسٹس حکومت پر برہم

datetime 6  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کراچی کی اصل شکل میں بحالی اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت میں میئر کراچی اور سندھ حکومت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مفاد پرستی میں کراچی کا کیا حشر کردیا ہے آپ لوگوں نے، آپ لوگ سوٹ پہن کر دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں باہر نکلنے کو تیار نہیں، یہاں آکر کہانیاں سنا دیتے ہیں، بتایا جائے شہر کو خوبصورت کیوں نہیں بناتے؟۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کراچی کی اصل شکل میں بحالی اور تجاوزات کے خاتمے سمیت مختلف کیسز کی سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے ایڈوکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ وہ آئین کا آرٹیکل 140 پڑھیں، جو کچھ آپ لوگ کر رہے ہیں یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں؟ لوگوں کو کچھ ملا؟ سب کچھ تو آپ کی جیب میں چلا گیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ آپ لوگ سوٹ پہن کر دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں باہر نکلنے کو تیار نہیں، یہاں آکر کہانیاں سنا دیتے ہیں ورلڈ بینک فلاں بینک، بتائیں آخری دفعہ باہر کب نکلے تھے؟ کوئی روڈ دیکھا ہے آپ نے؟سیکرٹری بلدیات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کسی کے لاڈلے ہوں گے مگر یہاں کسی کے لاڈلے نہیں، کبھی لیاری، منگھوپیر، پاک کالونی، لالو کھیت اور ناظم آباد گئے ہیں؟چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت کہا کہ یہ تو آرٹیکل 6 کا کیس بنتا ہے آپ لوگ آئین توڑ رہے ہیں، وزیر اعلی سے رپورٹ لے کر دیں کیوں نہیں ہورہا کام؟ اگر میئر سے کام نہیں لینا تو ان کو گھر بھیج دیں، انہیں کیوں رکھا ہوا ہے؟ کراچی کوئی گاوں نہیں ہے۔جسٹس گلزار نے ریمارکس میں کہا کہ کبھی کراچی پاکستان کا نگینہ ہوا کرتا تھا، کیا حشر کردیا آپ لوگوں نے مفاد پرستی میں کراچی کا، پورے پورے پارکس، قبرستان اور رفاعی پلاٹس غائب ہوگئے ہیں۔

اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت میں کہا کہ آپ نے سندھ حکومت کو متنازع معاملات پر میٹنگ کا حکم دیا تھا، متعدد یاد دہانی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ہمیں 7 ارب روپے تنخواہوں اور بینشن کے ملتے ہیں۔عدالت نے میئر کراچی سے سوال کیا کہ آپ نے سڑکیں بنائی ہیں؟ کہاں سڑک بنائی ہے؟ اس پر وسیم اختر نے جواب دیا کہ ناظم آباد میں چھوٹی گلیوں کی سڑکیں بنائی ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ناظم آباد میں کوئی چھوٹی گلیاں نہیں ہیں، ریکارڈ پیش کریں،کتنی سڑکیں بنائی ہیں؟دورانِ سماعت ایک خاتون نے عدالت میں شکایت کی کہ ایک ہی سڑک تین دفعہ توڑ کر بنادی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے شہر کے لوگ کہہ رہے ہیں کچھ نہیں بنا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کراچی کو چلانا ہے تو چلا کر دکھائیں، طوطا کہانیاں مت سنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…