جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مانسہرہ کے مدرسے میں 120 بچے زیر تعلیم، ملزم قاری شمس الدین سرکاری سکول ٹیچر بھی ہے اور باقاعدہ تنخواہ لیتا ہے، بچے کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ۔۔ڈی آئی جی ہزارہ نے کیس میں مفتی کفایت اللہ کا کردار بے نقاب کردیا

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)ڈی آئی جی ہزارہ پولیس نے مانسہرہ زیادتی کیس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کرسکتا ہے۔سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے تدارک پر بات چیت کی گئی۔

ارکان نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات صرف مدرسوں تک محدود نہیں۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے تجویز دی کہ بچوں سے ذیادتی کے ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں۔جاوید عباسی نے کہا کہ ان واقعات میں 80 فی صد فیملی ،اساتذہ اور جاننے والے لوگ ملوث ہوتے ہیں،لوگ عزت کی خاطر چپ کر جاتے ہیں، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے موجودہ قوانین کا جائزہ لیا جائے اور جامع رپورٹ تیار کر کے سینیٹ میں پیش کی جائے۔روبینہ خالد نے کہا کہ غریب والدین کو پیسے دے کر صلح کر لی جاتی ہے، زیادتی کے بعد بچے کی موت ہو جاتی ہے تو پولیس اورلوگ اصل واقعہ کودبا دیتے ہیں، بچوں سے زیادتی کے خلاف قوانین بنانے کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کو ساتھ رکھا جائے۔ڈی آئی جی ہزارہ نے مانسہرہ واقعہ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لڑکوں سے زیادتی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، ایبٹ آباد میں گزشتہ سال 252 بچوں سے زیادتی کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے، مانسہرہ کے مدرسے میں 120 بچے پڑھ رہے تھے، ملزم قاری شمس الدین سرکاری اسکول ٹیچر بھی ہے اور باقاعدہ تنخواہ لیتا ہے، بچے کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ قید کر کے مارا بھی گیا، بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے۔

مدرسے کو بند کر دیا گیا ہے اور منتظم کو گرفتار کر رہے ہیں۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہم نے غیر رجسٹرڈ مدارس کے ہاسٹلز کو ختم کرنے کا کہہ دیا ہے، ہزارہ بار ایسوسی ایشن نے ملزم کا کیس نہ لڑنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے، جے یو آئی (ف) کا رہنما مفتی کفایت اللہ ملزم کو سپورٹ کرتا رہا ہے، مفتی کفایت نے الیکٹرونک میڈیا پر پریس کانفرنس کی اور اس کا جو کردار رہا وہ میڈیا کے سامنے نہیں بتا سکتے۔پولیس بریفنگ کے دوران ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 2018 میں خیبر پختون خوا میں بچوں سے زیادتی کے 143 کیسز، اسلام آباد میں 130، بلوچستان میں 98 اور سندھ میں 1016 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، خیبرپختونخوا میں 2019 میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا، بچوں سے زیادتی کرنے والے لوگ زیادہ تر بچوں کو جاننے والے ہی ہوتے ہیں، جاننے والے، پڑوسی اور دکاندار بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…