بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا، پاکستان اب محفوظ ملک ہے، وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو اہم پیغام دے دیا

  جمعرات‬‮ 23 جنوری‬‮ 2020  |  20:58

ڈیووس (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کا شکار خطے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں،بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا ہے جسے ہندوتوا یا آر ایس ایس کہا جاتا ہے اور نریندر مودی اس انتہا پسند تنظیم کا تا حیات رکن ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے جتنا لوگ یا دنیا سمجھتی ہے،مسئلہ یہ


ہے کہ بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا ہے جسے ہندوتوا یا آر ایس ایس کہا جاتا ہے اور نریندر مودی اس انتہا پسند تنظیم کا تا حیات رکن ہے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 لاکھ لوگ گزشتہ سال 5 اگست سے محاصرے میں ہیں، بھارتی فورسز ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو تحویل میں لے چکی ہے اور ان کے تمام سیاسی رہنماوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے جو دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ہوگا کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں اور پاکستان صرف قیام امن میں ہی شراکت داری کرے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان اب محفوظ ملک ہے جہاں کاروبار کے شاندار مواقع ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کردیا ہے اور وہ پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور امریکی صدر پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مداخلت کرنے پر ایک مرتبہ پھر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے دیا جانا چاہیے کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے۔عمران خان نے بھارت میں جاری متنازع شہریت قانون پر جاری مظاہروں پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎