پیر‬‮ ، 08 دسمبر‬‮ 2025 

موبائل فونز سے پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جائے، علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو خط لکھ دیا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کے رکن سید علی قاسم گیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فونز پر عائد غیر معمولی بلند ٹیکسوں کا فوری طور پر جائزہ لے۔ ان کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام نے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی مشکل بنا دی ہے اور ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کی رفتار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ہم نیوز کے مطابق، کمیٹی ارکان کو ارسال کیے گئے ایک خط میں گیلانی نے کہا کہ اسمارٹ فونز آج کے دور میں تعلیم، کاروبار، حکومتی امور اور مالیاتی خدمات تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔ تاہم، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے عائد کیے گئے درآمدی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کی بھاری شرحوں نے عام شہریوں کے لیے موبائل فون خریدنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

گیلانی نے بتایا کہ 500 ڈالر سے زائد مالیت والے فونز پر حکومت 25 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) بھی وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ فونز پر مزید ٹیکس اور فیسیں بھی لاگو ہیں، جن میں ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کے تحت لی جانے والی فیسیں بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان تمام اضافی اخراجات کا بوجھ عام صارفین، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔گیلانی نے واضح کیا کہ آج موبائل فون کوئی عیاشی کی چیز نہیں بلکہ سماجی اور معاشی شمولیت کا لازمی ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق، بھاری ٹیکسوں کی موجودہ پالیسی ڈیجیٹل ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہے، کاروباری لاگت میں اضافہ کر رہی ہے اور ملک کے آن لائن سروس سیکٹر کی رفتار کو محدود کر رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ پالیسی برقرار رہی تو یہ اختراعات (innovation) کی رفتار کو کم اور پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مسابقت کو متاثر کرے گی۔سید علی قاسم گیلانی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایک متوازن پالیسی وضع کرے جو ایک جانب قومی ریونیو کو یقینی بنائے اور دوسری جانب عام شہریوں کے لیے سستے اسمارٹ فونز کی فراہمی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو ممکن بنائے۔انہوں نے کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ مالیاتی اصلاحات کے دائرہ کار میں اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لے اور عملی اقدامات تجویز کرے۔



کالم



نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات


میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…

فیلڈ مارشل کا نوٹی فکیشن

اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں 2008ء میں شادی کا ایک…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)

جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…