منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع  سے  متعلق  وزیراعظم عمران خان نے حتمی اعلان کر دیا

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سوچ سمجھ کر کی ہے اور یہ معاملہ عدالت میں نہیں جانا چاہیے تھا۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس سے قبل ہوا جس میں اٹارنی جنرل پاکستان نے بھی شرکت کی اور بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق

پارلیمانی پارٹی کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے متعلق اعتماد میں لیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سوچ سمجھ کر کی ہے، یہ معاملہ عدالت میں نہیں جانا چاہیے تھا تاہم ہم قانون سازی کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تمام ارکان پارلیمنٹ اور اتحادیوں نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کردی، ہم نے عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرنا بلکہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس حوالے سے قانون سازی کیلئے حکم تھا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی مکمل کی، اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ۔دوران اجلاس ارکان پارلیمنٹ نے نوکریاں نہ ملنے کی شکایت کی اور گریڈ ون سے 5 کی نوکریاں دیے جانے کی درخواست کی جبکہ ارکان نے نوکریوں کے لیے قرعہ اندازی کی مخالفت بھی کی۔ارکان کی مخالفت پر وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ قرعہ اندازی کا طریقہ آپ سب کے حق میں ہے۔اس موقع پر ارکان اسمبلی نے نیب کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیاستدانوں کو نیب سے ریلیف ملنا چاہیے، اس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ آپ کو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے، میرے اور میری اہلیہ کے اکاؤنٹس چیک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہاکہ بیوروکریٹ اور کاروباری طبقے کو نیب سے متعلق تحفظات تھے، کاروباری طبقے کے تحفظات کی وجہ سے ملکی ترقی رک گئی تھی۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملکی مفاد میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019  لانا پڑا۔ عمران خان نے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ حکومتی کمیٹی نیب آرڈیننس پر مشاورت کر رہی ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے وزراء کی سینیٹ میں

عدم حاضری کی شکایت بھی کی جس پر وزیراعظم نے کہاکہ آئندہ جو وزیر سینیٹ میں نا آئے اس کی فہرست بنائی جائے۔اجلاس کے دور ان رمیش کمار نے سوال کیاک ہ قانونی سازی کرنی تھی تو حکومت نے نظر ثانی اپیل کیوں کی؟ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل نے جواب دیاکہ نظرثانی اپیل میں اختیارات کا تعین سے متعلق نکات اٹھائے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…