اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے آج کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ کو تبدیلی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا، حکومت نے تمام سروسز کے چیفس کی ریٹائرمنٹ ایج 60 سے 64 سال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، وزیراعظم آرمی چیف کو تین سال ایکسٹینشن بھی دے سکیں گے۔.
تفصیلات کے مطابق آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے تیار کیے بل میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی ریٹائرمنٹ کی حد عمر 64 سال کرنے کا فیصلہ ہوا، بل منظور ہونے کی صورت میں 59 سالہ جنرل قمر جاوید باجوہ مزید 5 سال کیلئے آرمی چیف رہنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ کی منظوری دیدی گئی۔جبکہ ذرائع کے مطابق آرمی ایکٹ میں ترمیم کے باعث آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال تک کی توسیع کی جاسکے گی۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کی روشنی میں سروسزرولزکی دفعہ155میں ترمیم کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے تیار کردہ بل کے مطابق تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی ریٹائرمنٹ کی حد عمر 64 سال ہوگی۔تاہم موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی عمر اس وقت 59 سال ہے،اگلے 5 سال کیلئے بھی آرمی چیف رہ سکتے ہیں۔



















































