جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

خدا کرے حضرت علیؓ کی تلوار یہاں آجائے اور کرپٹ لوگوں کے سربلا امتیاز کاٹے جائیں

datetime 31  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن) سپریم کورٹ نے کراچی میں کنسٹرکشن کمپنی بناکر مبینہ ملی بھگت سے اربوں روپے کی جائیدا د بنانے والے ملزم کی جانب سے ضمانت کیلئے دائردرخواست مسترد کردی جس پر عدالت کے احاطہ سے ملزم محمداخلاق میمن کو گرفتار کرلیا گیا ہے دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بااثرملزم کودوسال تک عبوری ضمانت پررکھا گیا، کیا عدالتوں سے غریب آدمی کو عبوری ضمانت ملتی ہے؟،

نظام انصاف پرانگلیاں اٹھ رہی ہیں، آبادی بڑھنے کے ساتھ ججوں کی تعداد بڑھانے پربھی غور کرناچاہیے۔ ملزم پر اربوں روپے کی جا ئیداد چند کروڑ روپے میں حاصل کر نے کا الزام تھا، اس نے 3 تلوار کے علاقہ میں اربوں روپے کا پلاٹ 60 کروڑ روپے میں خریدا لیکن صرف 4 کروڑ 80 لاکھ جمع کرا کر پلاٹ اپنے نام کرا لیا تھا، جس پرنیب نے اس کیخلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائرکیا تھا۔ملزم کے وکیل لطیف کھو سہ نے موقف اپنایا کہ ملزم پہلے بھی عبوری ضمانت حاصل کرچکاہے اس لئے استدعاہے کہ عدالت عظمٰی بھی میرے موکل کی عبوری ضمانت منظور کر ے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے ان سے کہا کہ اگر عدالت نے ملزم کو عبوری ریلیف دیا تو یہ شاید اگلی عید تک بھی پیش نہ ہو، اس ملک میں وزیراعظم، وزرائے اعلٰی اور دیگربڑے لوگ جیل جا چکے ہیں، آپ کا موکل بھی چلا جائے توکوئی بات نہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ نیب کے دانت اور کاٹنے والی چھری کند ہو چکی ہے، جسٹس دوست محمد خان نے استفسارکیا کہ کراچی میں 3 تلوار کیا عوام کے کاٹنے کے لئے بنائی گئی ہے، تو وکیل نے کہا کہ تین تلوار عوام کے لئے نہیں بنائی گئیں بلکہ یہ حضرت علی کی تلوار ہے، توجسٹس دوست محمد نے کہا کہ خدا کرے کہ حضرت علی کی تلوار ہمارے ملک میں آ جائے اور اس سے کرپٹ لوگوں کے بلاامتیاز سر کاٹے جائیں، یہ بااثر تھا اسی لئے اسے دو سال

تک عبوری ضمانتوں پر رکھا گیا۔ در یں اثناءاسی بنچ میں اراضی کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے ورثاءکے تعین کے معاملے کے حوالے سے کہا کہ ہمارے ملک میں آبادی بڑھ رہی ہے جس کے پیش نظر ہرادارے میں بھرتیاں کی جاتی ہیں آخر ججوں کی تعداد کیوں نہیں بڑھائی جاتی، حکومت کوججوں کی تعداد بڑھانے پرتوجہ دینا ہوگی۔درخواست گزار فیصلوں کاانتظار کرتے کرتے مرجاتے ہیں بعد میں

ان کے ورثا ءکا پتا نہیں چلتا، اورمسائل جنم لیتے ہیں ان کاکہناتھا کہ اس صورتحال میں نظام کے ساتھ وکلاءکی بھی مہربانیاں ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ 21 کروڑ 20 لاکھ عوام میں کون صادق اور امین ہے، اگر کوئی صادق اور امین ہوا بھی تووہ جنگل میں ہی ہوگا اور وہ دنیا سے ملنا جلنا نہیں چاہتا ہوگا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…